خطبات محمود (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 198 of 778

خطبات محمود (جلد 25) — Page 198

خطبات محمود 198 $1944 باقی وقت دنیا پر صرف کریں۔بلکہ خدا ہم سے یہ چاہتا ہے کہ ہم اپنی تمام زندگی خدا تعالیٰ کے دین کی خدمت کے لیے وقف کر دیں۔حضرت داؤد فرماتے ہیں میں نے آج تک کسی بزرگ کی سات پشتوں تک کو بھیک مانگتے اور فاقہ کرتے نہیں دیکھا۔22 اس کے معنے یہی ہیں کہ سات پشتوں تک اللہ تعالیٰ خود اس خاندان کا محافظ ہو جاتا ہے اور پھر اس کے یہ بھی معنے ہیں کہ جب سات پشتوں تک خدا خود اُس خاندان کا محافظ ہو جاتا ہے تو اس خاندان کے افراد کا بھی فرض ہوتا ہے کہ وہ کم سے کم سات پشتوں تک سوائے دین کی خدمت کے اور کوئی کام نہ کریں۔اگر وہ دنیا کے کام چھوڑ دیں تو اس کے نتیجہ میں فرض کرو ان کو فاقے آنے لگ جاتے ہیں تو پھر کیا ہوا۔سب کچھ خدا کی مشیت کے ماتحت ہوتا ہے۔اگر اس رنگ میں ہی کسی وقت مینی اللہ تعالیٰ ان کا امتحان لینا چاہے اور انہیں فاقے آنے شروع ہو جائیں تب بھی اس میں کونسی میں بڑی بات ہے۔کیا لوگ دنیا میں فاقے نہیں کیا کرتے ؟ اگر دنیا کے اور لوگ فاقے کر لیتے ہیں تو فاقہ سے ڈر کر ہمارے لیے دین کی خدمت کو چھوڑ نا کس طرح جائز ہو سکتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام جب فوت ہوئے اُس وقت ہمارے پاس اپنے گزارے کا کوئی سامان نہ تھا۔والدہ سے اُس کے ہر بچہ کو محبت ہوتی ہے لیکن میرے دل میں نہ ہے صرف اپنی والدہ ہونے کے لحاظ سے حضرت اماں جان کی عظمت تھی بلکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی اہلیہ ہونے کی وجہ سے آپ کی دُہری عزت میرے قلب میں موجود ہے۔اس کے علاوہ جس چیز نے میرے دل پر خاص طور پر اثر کیا وہ یہ ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام جب فوت ہوئے ہیں اس وقت آپ پر کچھ قرض تھا۔آپ نے یہ نہیں کیا کہ جماعت کے لوگوں سے کہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پر اس قدر قرض ہے یہ ادا کر دو۔بلکہ آپ کے پاس جو زیور تھا اسے آپ نے بیچ کر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے قرض کو فورا ادا کر دیا۔میں اُس وقت بچہ تھا اور میرے لیے ان کی خدمت کرنے کا کوئی موقع نہ تھا۔مگر میرے دل پر ہمیشہ یہ اثر رہتا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو کتنا محبت کرنے والا اور آپ سے تعاون کرنے والا سا تھی دیا۔پھر ہمارے لیے حضرت خلیفہ اول نے کچھ گزارہ مقرر کرنا چاہا۔میں نے کیے