خطبات محمود (جلد 25) — Page 175
خطبات محمود 175 $1944 حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو ہمارے چھوٹے بھائی مبارک احمد مرحوم سے بہت محبت تھی۔جب وہ بیمار ہوا تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اتنی محنت اور اتنی توجہ سے اس کا علاج کیا کہ بعض لوگ سمجھتے تھے اگر مبارک احمد فوت ہو گیا تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو سخت صدمہ پہنچے گا۔حضرت خلیفہ اول بڑے حوصلہ والے اور بہادر انسان تھے۔جس روز مبارک احمد مرحوم فوت ہوا اُس روز صبح کی نماز پڑھا کر آپ مبارک احمد کو دیکھنے کے لیے تشریف لائے۔میرے سپر د اُس وقت مبارک احمد کو دوائیاں دینے اور اُس کی نگہداشت وغیرہ کا کام تھا۔میں ہی نماز کے بعد حضرت خلیفہ اول کو اپنے ساتھ لے کر آیا تھا۔میں تھا، حضرت خلیفہ اول تھے ، ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ صاحب تھے اور شاید ڈاکٹر خلیفہ رشید الدین صاحب بھی تھے۔جب حضرت خلیفہ اول مبارک احمد کو دیکھنے کے لیے پہنچے تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا حالت اچھی معلوم ہوتی ہے بچہ سو گیا ہے ہے۔مگر در حقیقت وہ آخری وقت تھا۔جب میں حضرت خلیفہ اول کو لے کر آیا اُس وقت مبارک احمد کا شمال کی طرف سر اور جنوب کی طرف پاؤں تھے۔حضرت خلیفہ اول بائیں طرف کھڑے ہوئے اور انہوں نے نبض پر ہاتھ رکھا۔مگر نبض آپ کو محسوس نہ ہوئی۔اس پر آپ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے کہا کہ حضور مشک لائیں اور خود ہاتھ کہنی کے قریب رکھ کر نبض محسوس کرنی شروع کی کہ شاید وہاں نبض محسوس ہوتی ہو۔مگر وہاں بھی نبض محسوس نہ ہوئی تو پھر آپ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے مخاطب ہو کر کہا کہ جلدی مشک لائیں اور خود بغل کے قریب اپنا ہاتھ لے گئے اور نبض محسوس کرنی شروع کی۔اور جب وہاں بھی نبض محسوس نہ ہوئی تو گھبر ا کر کہا حضور ! جلد منتک لائیں۔اس عرصہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام چابیوں کے کچھے سے نجی تلاش کر کے ٹرنک کا تالا کھول رہے ہو تھے۔جب آخری دفعہ حضرت مولوی صاحب نے گھبراہٹ سے کہا کہ حضور ! مشک جلدی لائیں اور اس خیال سے کہ مبارک احمد کی وفات سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو سخت صدمہ ہو گا باوجود بہت دلیر ہونے کے آپ کے پاؤں کانپ گئے اور آپ کھڑے نہ رہ سکے اور زمین پر بیٹھ گئے۔ان کا خیال تھا کہ شاید نبض دل کے قریب چل رہی ہو اور مشک سے قوت کو حضور