خطبات محمود (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 161 of 778

خطبات محمود (جلد 25) — Page 161

$1944 161 خطبات محمود شادی کرلیں گے۔سو اب میں تجھے کہتا ہوں "ہائے میرا سر" 8 چنانچہ آپ اس کے تیسرے دن بیمار ہوئے اور چند دن بعد فوت ہو گئے۔معلوم ہوتا ہے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو علم ہو چکا تھا کہ اب میری وفات کا وقت قریب ہے۔حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے جب ناز کے ساتھ کہا کہ آپ کو میری کیا فکر پڑی ہے میں مر جاؤں گی تو آپ اور شادی میں کر لیں گے۔تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اُس راز کو ظاہر کر دیا اور فرمایا کہ تم تو یہ ہے کہتی ہو مگر میں تمہیں یہ بتا تا ہوں کہ تم زندور ہو گی اور میں وفات پا جاؤں گا۔تو مومن جس قدر خدا کے قریب ہوتا چلا جاتا ہے بنی نوع انسان کی ہمدردی اور ان کے حقوق کو ادا کرنے کا مادہ بھی اس میں بڑھتا چلا جاتا ہے۔مگر اس کے مقابلہ میں اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے اُسے اس بات کی بھی توفیق دے دیتا ہے کہ جب اسے کوئی تلفنی پہنچے تو می اسے وہ بر داشت کرے۔چنانچہ وہ پھر بھی خدا تعالیٰ کا شکر گزار ہی ہوتا ہے اور اس کی حمد اس کی زبان پر جاری ہوتی ہے۔حضرت خلیفہ اول فرمایا کرتے تھے کہ میرا ایک لڑکا جو میری پہلی بیوی سے تھا اور اُس وقت تک میرا اکلوتا بیٹا تھا فوت ہو گیا اور وہ فوت بھی اس طرح ہوا کہ میں سمجھتا ہوں میں نے ہی اسے قتل کیا۔اور یہ اس طرح ہوا کہ وہ معمولی بیمار تھا آپ اسے دیکھنے کے لیے تشریف لے گئے اور اس کے لیے دوائی کی ایک پڑیا تجویز کی۔شاید اس کے گلے میں کوئی نقص تھا آپ نے وہ دوا تجویز فرما کر لڑکے کی والدہ سے کہا کہ یہ پڑیا اسے ابھی کھلا دی جائے۔آپ فرماتے تھے اسی وقت بچے نے مجھے کہا ابا مجھے ایک گھوڑالے دو۔آپ باہر نکلے اور ایک رئیس سے جو گھوڑوں کا اچھا واقف تھا بات کرنے لگے کہ ہمیں ایسا گھوڑا چاہیے کہ اتنا قد ہو اور اتنی قیمت ہو۔فرماتے تھے ابھی میں اُس سے باتیں ہی کر رہا تھا کہ نو کر دوڑا ہوا آیا اور کہنے لگا لڑکا فوت ہو گیا ہے۔میں جو گیا تو مجھے معلوم ہوا کہ پڑیا جب اُس کے منہ میں ڈالی گئی تو اسے اچھو آیا اور ساتھ ہی اس کا دم نکل گیا۔آپ فرماتے تھے مجھے اس کا اتنا صدمہ ہوا، اتنا صدمہ ہوا کہ جب میں نماز کے لیے کھڑا ہوا تو میرے منہ سے اَلْحَمْدُ لِلہ نہ نکلے اور بار بار میرے دل میں یہی خیال آئے کہ کس طرح اچانک میر الڑ کا فوت ہو گیا ہے۔اس پر یکدم میرے دل میں خیال ہے