خطبات محمود (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 15 of 778

خطبات محمود (جلد 25) — Page 15

خطبات محمود 15 $1944 ے گا چاہے وہ اس کے مذہب سے تعلق رکھنے والا ہو یا تعلق نہ رکھنے والا ہو۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرمایا کرتے تھے ایک دفعہ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کی چوری ہو گئی۔ان کا ایک غلام گھبرا کر ادھر اُدھر دوڑتا پھرتا اور کہتا خدا لعنت کرے اُس شخص پر جس نے چوری کی۔ارے چوری اور پھر ابو بکر کی چوری۔شام کو وہی زیور جو چرایا گیا تھا ایک یہودی کے پاس سے ملا اور اُس نے بیان کیا کہ میرے پاس یہی غلام فروخت کرنے کے لیے لایا تھا۔حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کو معلوم ہوا تو آپ نے فرمایا اگر یہ چوری کرنے والے پر لعنت نہ کر تا تو شاید بچ جاتا۔مگر اس نے تو لعنت ڈال کر اپنے آپ کو خود نگا کر لیا۔تو یہ کہنا کہ یہ مسلمان کی چوری نہیں ہندو کی چوری ہے، یا مسلمان سے جھوٹ نہیں بولا گیا سکھ سے جھوٹ بولا گیا ہے ، یا مسلمان سے یہ بد دیانتی نہیں کی گئی ایک عیسائی سے بد دیانتی کی گئی ہے میں بالکل لغو اور فضول بات ہے۔مومن کے اخلاق تو ایسے ہونے چاہیں کہ جن لوگوں سے وہ معاملہ کر رہا ہو انہیں وہ خواہ جانتا ہو یا نہ جانتا ہو، سب کے ساتھ اس کا حسن سلوک یکساں ہو۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں مومن وہ ہے جو ہر ملنے والے کو سلام کرتا ہے۔چاہے وہ اسے جانتا ہو یانہ جانتا ہو۔2 اس حدیث کے اور بھی معنے ہیں مگر اس کا ایک یہ مفہوم بھی ہے کہ مومن کا سلام اور اس کا حُسن سلوک کسی خاص شخص سے مخصوص نہیں ہو تا بلکہ ہر شخص کے ساتھ اس کا اخلاقی برتاؤ یکساں ہوتا ہے چاہے وہ اس کو جانتا ہو یا نہ جانتا ہو۔تو مومن وہی ہے جس کے حُسنِ سلوک اور جس کے اعلیٰ اخلاق کا تعلق کسی خاص شخص یا کسی خاص قوم سے مخصوص نہ ہو بلکہ ہر شخص کے ساتھ اس کا یکساں تعلق ہو۔خواہ وہ اُس کا واقف ہو یا ناواقف۔یہ نہ ہو کہ وہ اپنے دوست سے معاملہ کرتے وقت تو حُسنِ سلوک سے کام لے اور دشمن سے معاملہ کرتے وقت بداخلاقی پر اتر آئے۔کیا یہ ہو سکتا ہے کہ تمہاری جیب میں مشک پڑا ہو اور اس کی خوشبو صرف تمہارا دوست سُونگھے تمہارا دشمن اس کو نہ سونگھ سکے ؟ کیا یہ ہو سکتا ہے کہ تمہارے گلے میں پھولوں کا ہار پڑا ہوا ہو اور اس کے پھولوں کی مہک تمہارے دماغ میں تو آئے یا تمہارے عزیزوں کے دماغ میں تو آئے لیکن تمہارا غیر اس سے محروم رہے؟ کیا یہ ہو سکتا ہے کہ اگر تم می