خطبات محمود (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 136 of 778

خطبات محمود (جلد 25) — Page 136

خطبات محمود 136 $1944 قرار دیتا اور اپنے کسی بندے کی زبان کو ہی اپنی زبان قرار دیتا ہے۔تب اس کا ہاتھ جو کچھ کرتا ہے وہ در حقیقت خدا ہی کرتا ہے اور اس کی زبان جو کچھ کہتی ہے وہ در حقیقت خدا ہی کہہ رہا ہوتا ہے۔پس مجھے خوشی ہے کہ اس ہاتھ کے بلند کرنے کے لیے خدا نے اپنے فضل سے مجھے چن لیا اور جو کچھ وہ عرش سے کہہ رہا تھا اُسے اُس نے میرے ذریعہ سے دنیا میں پھیلایا اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی تعلیم کو ایسے طور پر قائم کر دیا کہ ان مسائل کے لیے متعلق دشمن اب کسی طرح حملہ نہیں کر سکتا۔تیس سال ہو گئے جب سے یہ جنگ شروع ہے بلکہ تیس سال تو میری خلافت کے ہی ہیں اگر حضرت خلیفہ اول کے زمانہ کو بھی شامل کر لیا جائے تو پینتیس چھتیں سال گزر چکے ہیں اِس عرصہ دراز میں کس طرح مڑ مڑ کر دشمن نے حملہ کیا۔مگر پھر کس طرح خدا نے اُس کو ناکام و نامراد کیا اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا درجہ قائم ہی رہا۔پھر ایک اور فضل یہ ہوا کہ ایسے نازک موقع پر جب ایک فریق تنقیص اور درجہ کی کمی کی طرف اپنا قدم اٹھا رہا ہو دوسرے فریق کے متعلق یہ خطرہ پیدا ہو جاتا ہے کہ وہ مقابلہ میں کہیں مبالغہ اور غلو سے کام لینے نہ لگ جائے۔مگر اللہ تعالیٰ نے اس نقص سے بھی ہمیشہ مجھے محفوظ رکھا۔حالانکہ جو کام ہمارے سپرد تھا ہو سکتا تھا کہ ہم اس کے کرتے وقت ایسا می درجہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو دے دیتے جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے ہتک کا موجب ہوتا یا خدا کے لیے ہتک کا موجب ہوتا مگر اللہ تعالیٰ نے ہمیشہ میرے قدم کو استوار رکھا اور کبھی کسی کو جرات نہیں ہو سکی کہ میرے ساتھ ہوتے ہوئے وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے درجہ میں کمی کرے یا اللہ تعالیٰ کے درجہ میں کمی کرے۔قادیان میں ہی ایک دفعہ کسی نے کہا کہ اب رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی شان میں آگے سے بڑھ کر آئے ہیں۔مجھے جب اس بات کا علم ہوا تو میں نے فوراً نوٹس لیا اور ہے اس فقرہ کے کہنے والے کو تیبہ کی کہ ہر چیز کو اس کی اپنی جگہ پر قائم رکھنا ہی دین ہے۔جو ہم شخص حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے متعلق ایسے الفاظ استعمال کرتا ہے وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہتک کا ارتکاب کرتا ہے اور اسے قطعاً برداشت نہیں کیا جاسکتا۔