خطبات محمود (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 117 of 778

خطبات محمود (جلد 25) — Page 117

خطبات محمود 117 $1944 اس طرح وقت گزرتا جا رہا ہے اور اسلام کی فتح کا دن ہم سے دور ہو تا جا رہا ہے۔تم میں سے کوئی شخص کہہ سکتا ہے کہ اسے ذاتی طور پر جماعت کے متعلق یہ تسلی ہے کہ اسے جن قربانیوں کے لیے بھی کہا جائے ، وہ ان کے لیے پوری طرح تیار ہو گی۔مگر مجھے چونکہ پوری تسلی نہیں کہ ہم جماعت میں قربانی کا پورا مادہ پایا جاتا ہے اس لیے جتنا جتنا زمانہ دیکھا جاتا ہے اس کے مطابق جماعت کے سامنے اعلان کر دیا جاتا ہے۔اور بعض دفعہ ایسا بھی ہوتا ہے جب اللہ تعالیٰ زبر دستی کسی قربانی کا اعلان کرا دیتا ہے اُس وقت وہ اس مطالبہ کو پورا کرنے کا خود ذمہ دار ہوتا ہے، ہمیں فکر نہیں ہوتا کہ یہ مطالبہ کسی طرح پورا ہو گا۔بہر حال میں دیکھتا ہوں کہ جماعت میں ابھی ایسی تبدیلی پیدا نہیں ہوئی اور جماعت ایسے مقام پر نہیں پہنچی کہ اسے جو بھی حکم دیا ہے جائے اسے ماننے کے لیے وہ تیار ہو جائے۔بعض قسم کی قربانیاں ایسی ہیں جن کی روح جماعت میں پیدا ہو چکی ہے اور جماعت ان کے متعلق بے شک اچھا نمونہ دکھا رہی ہے۔گو اس میں بھی ابھی کمزوری پائی جاتی ہے اور ابھی اس میں بھی ترقی کی گنجائش ہے لیکن باقی قربانیاں تو ایسی ہیں ہے کہ ابھی جماعت کا قدم ان کی طرف اٹھا ہی نہیں۔حالانکہ ایمان ایک عمارت کا نام ہے۔ایک ایسی عمارت کا جس کی شرقی جانب بھی درست ہو، جس کی غربی جانب بھی درست ہو، جس کی شمالی جانب بھی درست ہو، جس کی جنوبی جانب بھی درست ہو ، جس کی چھت بھی درست ہو، جس کی کھڑکیاں بھی درست ہوں، جس کے روشندان بھی درست ہوں، جس کے دروازے بھی درست ہوں، جس کا فرش بھی درست ہو اور جس کا پلستر بھی درست ہو۔اسی طرح جب تک دین کے سارے حصے درست نہ ہوں اور جب تک سارے معاملات میں کوئی شخص اعلیٰ نمونہ پیش نہ کر رہا ہو وہ کامل مومن نہیں کہلا سکتا اور جب کامل مومن نہیں کہلا سکتا تو صحابی کس طرح کہلا سکتا ہے۔صحابی ایک روحانی درجے کا نام ہے۔صحابی وہ ہے جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صحبت میں بیٹھا اور جس نے اپنے دین کے سارے حصوں کو مکمل کر لیا۔پس صحابی وہ ہے کہ جس سے اگر جان کی قربانی کا سوال ہو تو وہ اس کے لیے تیار ہو ، اگر مال کی قربانی کا سوال ہو تو وہ اس کے لیے تیار ہو ، اگر وقت کی قربانی کا سوال ہو تو وہ اس کے لیے تیار ہو، اگر جذبات کی قربانی کا سوال ہو تو وہ اس کے لیے تیار ہو، اگر وطن کی ہے