خطبات محمود (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 101 of 778

خطبات محمود (جلد 25) — Page 101

خطبات محمود 101 $1944 الزام نہیں لگاتے۔ہمارا خدا بخیل اور ممسک نہیں کہ ہم یہ خیال کر لیں کہ اس نے اپنی نعمتوں ، پہلوں کو تو حصہ دیا مگر ہمارے لیے ان نعمتوں کے حصول کا دروازہ اس نے بند کر دیا ہے۔یہ جواب تھا جو میں نے اس سوال کا دیا۔آج میں کسی قدر زیادہ وضاحت سے اس امر کو خطبہ میں بیان کرنا چاہتا ہوں اور جماعت کو اس امر کی طرف توجہ دلاتا ہوں کہ در حقیقت کسی انعام کے متعلق انسان کے دل میں خواہش کا پیدا ہونا یہ بھی بعض دفعہ بناوٹی ہوتا ہے اور کسی انعام کے حصول سے مایوس ہو جانا یہ بھی انسان کے لیے بڑی تباہی کا موجب ہوتا ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں مَنْ قَالَ هَلَكَ الْقَوْمُ فَهُوَ أَهْلَكَهُمْ 1 اے لوگو! جس نے اعلان کرنا شروع کر دیا کہ ہماری قوم ہلاک ہو گئی ، ہماری قوم برباد ہو گئی ہیں فَهُوَ أَهْلَكَهُمْ وہی شخص ہے جس نے اس قوم کو تباہ و برباد کیا۔اس حدیث میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قومی ہلاکت کی وجہ بتائی ہے اور فرمایا ہے کہ اس ہلاکت اور بربادی کی ذمہ داری اس آدمی پر ہے جو کہتا ہے کہ قوم ہلاک ہو گئی۔بعض لوگوں نے اس حدیث سے یہ دھوکا کھایا ہے کہ کسی شخص کے یہ کہنے سے کہ قوم بلاک ہو گئی، ساری کی ساری قوم کس می طرح ہلاک ہو سکتی ہے اور چونکہ یہ بات ان کی سمجھ میں نہیں آئی اس لیے وہ کہتے ہیں اس حدیث میں اَهْلَكَهُمْ کا لفظ نہیں بلکہ اَهْلَكُهُمْ کا لفظ ہے۔یعنی وہ شخص سب سے زیادہ ہلاک ہونے والا ہے۔حالانکہ واقع یہ ہے کہ انہوں نے قومی نفسیات کو سمجھا ہی نہیں۔یہ کہہ دینا کہ جو شخص کہتا ہے قوم ہلاک ہو گئی وہ سب سے زیادہ ہلاک ہونے والا ہے۔اول تو بعض حالتوں میں یہ درست ہی نہیں اور پھر یہ بھی صحیح نہیں کہ ان الفاظ کی وجہ سے وہ سب سے زیادہ ہلاک ہونے ہے والا بن جاتا ہے۔در حقیقت ان لوگوں نے اس نکتہ کو نہیں سمجھا کہ جب کسی قوم میں مایوسی پیدا کر دی جائے تو وہ بڑے بڑے کام کرنے سے ہمیشہ کے لئے محروم ہو جاتی ہے۔کبھی کسی قوم کا دانا اور سمجھ دار لیڈر ایسا نہیں ہو سکتا جو اس کو مایوس کر دے اور آئندہ ترقیات کے متعلق اس کے دل میں نا امیدی پیدا کر دے۔جب کوئی قوم یہ سمجھ لے کہ وہ ترقی کے انتہائی درجہ پر پہنچی گئی تھی ہے یا جب کوئی قوم یہ سمجھ لے کہ وہ منزل کے انتہائی درجہ پر پہنچ گئی ہے تو وہ تباہ ہونا شروع ہے ہو جاتی ہے۔چنانچہ دیکھ لو مسلمانوں میں جب یہ خیال پیدا ہوا کہ قرآن کریم کی تفاسیر جو لوگ مانی