خطبات محمود (جلد 25) — Page 97
خطبات محمود 97 $1944 زمانوں میں آیا کرتے ہیں۔اس وقت چونکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے انوار چاروں طرف دنیا میں پھیلے ہوئے ہیں، آپ کی تعلیم پر جماعت قائم ہے، آپ کے احکام کو لوگ تسلیم کرتے ہیں، اللہ تعالیٰ کی رضا کی راہوں پر چلتے اور اس کا قرب حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں اس لیے موجودہ زمانہ میں ضروری تھا کہ اللہ تعالیٰ جس موعود کو کھڑا کرتا اُس کے متعلق پہلے سے علامات ظاہر کر دیتا تا کہ جماعت ٹھوکر سے محفوظ رہے۔ہاں جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کانور لوگوں کی نظر سے اوجھل ہو جائے گا اور پھر دنیا میں تاریکی اور ظلمت چھا جائے گی اُس وقت کوئی ایسا موعود بھی آسکتا ہے جس کے انکار پر لوگوں کو کافر قرار دیا ہے جائے۔اور اس میں کوئی حرج نہ ہو گا کیونکہ اُس وقت جیسے وہ ظاہر میں کافرہوں گے اُسی طرح اُن کے دل کا فر ہوں گے اور انہیں کا فر قرار دینا در حقیقت اُن کے اپنے کفر کا ہی اظہار کرنا ہو گا۔لیکن موجودہ زمانہ میں ایسا نہیں ہو سکتا تھا بلکہ جیسا کہ میں نے بتایا ہے ایسا ہونا اللہ تعالیٰ کی سنت اور اُس کے طریق کے خلاف ہے اور یہ صریح ظلم عظیم ہے کہ ایک قوم کو اللہ تعالی دو موتوں میں داخل ہے کرے"۔خطبہ ثانیہ میں فرمایا:۔" مجھے کل سے لاہور سے اطلاعات آ رہی ہیں کہ اتم طاہر کی حالت پھر نازک ہو رہی ہے اور آج کی اطلاع تو یہ ہے کہ ان کی نبض بھی کمزور ہے اس لیے میں کل کی بجائے آج ہی ہے لاہور جارہا ہوں۔اگر اللہ تعالیٰ نے مجھے توفیق دی تو میں اگلا جمعہ قادیان میں ہی آکر پڑھانے کی کوشش کروں گا۔خدا تعالیٰ نے انسان پر جو خانگی فرائض رکھے ہیں ان کو بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا اس لیے میں جمعہ کے بعد لاہور جاؤں گا اور چونکہ مجھے جلدی جانا ہے اس لیے جمعہ کی نماز کے ساتھ ہی عصر کی نماز بھی پڑھا دوں گا"۔(الفضل 16 فروری، 7 مارچ 1944ء) 1 :مریم: 30 2 : تذکرہ صفحہ 139 حاشیہ طبع چہارم 3 : تبلیغ رسالت جلد اوّل صفحہ 89