خطبات محمود (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 97 of 778

خطبات محمود (جلد 25) — Page 97

1944ء 97 خطبات محمود زمانوں میں آیا کرتے ہیں۔ اس وقت چونکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے انوار چاروں طرف دنیا میں پھیلے ہوئے ہیں، آپ کی تعلیم پر جماعت قائم ہے، آپ کے احکام کو لوگ تسلیم کرتے ہیں، اللہ تعالیٰ کی رضا کی راہوں پر چلتے اور اس کا قرب حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں اس لیے موجودہ زمانہ میں ضروری تھا کہ اللہ تعالیٰ جس موعود کو کھڑا کرتا اُس کے متعلق پہلے سے علامات ظاہر کر دیتا تا کہ جماعت ٹھوکر سے محفوظ رہے۔ ہاں جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام کا نور لوگوں کی نظر سے اوجھل ہو جائے گا اور پھر دنیا میں تاریکی اور ظلمت چھا جائے گی اُس وقت کوئی ایسا موعود بھی آسکتا ہے جس کے انکار پر لوگوں کو کافر قرار دیا جائے۔ اور اس میں کوئی حرج نہ ہو گا کیونکہ اُس وقت جیسے وہ ظاہر میں کافر ہوں گے اُسی طرح ان کے دل کا فر ہوں گے اور انہیں کافر قرار دینا در حقیقت اُن کے اپنے کفر کا ہی اظہار کرنا ہو گا۔ لیکن موجودہ زمانہ میں ایسا نہیں ہو سکتا تھا بلکہ جیسا کہ میں نے بتایا ہے ایسا ہونا اللہ تعالیٰ کی سنت اور اُس کے طریق کے خلاف ہے اور یہ صریح ظلم عظیم ہے کہ ایک قوم کو اللہ تعالیٰ دو موتوں میں داخل کرے"۔ خطبہ ثانیہ میں فرمایا:۔ " مجھے کل سے لاہور سے اطلاعات آ رہی ہیں کہ اُم طاہر کی حالت پھر نازک ہو رہی ہے اور آج کی اطلاع تو یہ ہے کہ ان کی نبض بھی کمزور ہے اس لیے میں کل کی بجائے آج ہی لاہور جا رہا ہوں ۔ اگر اللہ تعالیٰ نے مجھے توفیق دی تو میں اگلا جمعہ قادیان میں ہی آکر پڑھانے کی جارہا کوشش کروں گا۔ خدا تعالیٰ نے انسان پر جو خانگی فرائض رکھے ہیں ان کو بھی نظر انداز نہیں کیا۔ کیا جاسکتا اس لیے میں جمعہ کے بعد لاہور جاؤں گا اور چونکہ مجھے جلدی جانا ہے اس لیے جمعہ کی نماز کے ساتھ ہی عصر کی نماز بھی پڑھا دوں گا"۔ (الفضل 16 فروری، 7 مارچ 1944ء) 30:1 : مريم 2 : تذکرہ صفحہ 139 حاشیہ طبع چہارم 3 : تبلیغ رسالت جلد اول صفحہ 89