خطبات محمود (جلد 25) — Page 91
$1944 91 خطبات محج محمود ایک گھنٹی بجی ہے اور اس کی آواز ایسی ہے جیسے پیتل کا کوئی کٹورا ہو اور اُسے کسی چیز سے ٹھکوریں تو اُس میں سے ٹن کی آواز پیدا ہوتی ہے۔اس گھنٹی میں سے بھی ٹن کی آواز آئی۔مگر وہ آواز ایسی سریلی اور لطیف ہے کہ یوں معلوم ہوتا ہے سارے جہان کی موسیقی کی لذت اس میں بھر دی گئی ہے۔یہ آواز بڑھتی گئی، بڑھتی گئی یہاں تک کہ تمام جو میں متشکل ہو کر ایک فریم بن گئی جیسے تصویر کا فریم ہوتا ہے پھر میں نے دیکھا کہ اس فریم میں ایک تصویر نمودار ہوئی جو کسی نہایت ہی حسین اور خوبصورت وجود کی ہے۔پھر وہ تصویر بلنی شروع ہوئی اور تھوڑی دیر کے بعد یکدم اس میں سے کود کر ایک وجود میرے سامنے آگیا جس کے متعلق میں سمجھتا ہوں کہ وہ خدا کا فرشتہ ہے اور اس نے مجھے کہا آؤ میں تم کو سورۂ فاتحہ کا درس دوں۔چنانچہ اس نے مجھے سورہ فاتحہ کا درس دینا شروع کر دیا اور دیتا گیا، دیتا گیا، دیتا گیا۔یہاں تک کہ وہ إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ 2 کی تفسیر شروع کرنے لگا تو کہنے لگا۔آج تک جتنے مفسر ہوئے ہیں اُن سب نے ملِكِ يَوْمِ الدِّيْنِ 10 تک تفسیر لکھی ہے لیکن میں تمہیں اس کے آگے بھی تفسیر بتاتا ہوں۔چنانچہ اس نے ساری سورۃ فاتحہ کی تفسیر مجھے پڑھادی۔جب میری آنکھ کھلی تو رویا میں اُس فرشتہ نے جو باتیں مجھے بتائی تھیں اُن میں سے کچھ باتیں مجھے یاد تھیں لیکن میں نے اُن کو نوٹ نہ کیا اور بعد میں میں خود بھی اُن کو بھول گیا۔جب صبح میں نے اپنے اس رؤیا کا حضرت خلیفہ اول سے ذکر کیا اور یہ بھی کہا کہ خواب میں فرشتہ نے جو کچھ باتیں بتائیں تھیں ان میں سے بعض آنکھ کھلنے پر مجھے تھے یاد تھیں لیکن صبح اٹھنے پر وہ بھی میرے ذہن میں سے نکل گئیں۔تو حضرت خلیفہ اول خفا ہو کر کہنے لگے کہ تم نے اتنا علم ضائع کر دیا ان کو نوٹ کر لینا چاہیے تھا۔مگر وہ دن گیا اور آج کا دن آیا ہے سورہ فاتحہ سے خد اتعالیٰ ہمیشہ ہی مجھے نئے نئے نکات سمجھاتا ہے۔چنانچہ اب بھی اس رؤیا کے بعد جب میں نے توجہ کی کہ جماعت کی اصلاح اور اسلامی نظام کی فوقیت ثابت کرنے کے لیے کونسا واضح پروگرام ہو سکتا ہے تو اللہ تعالیٰ نے مجھے سورۂ فاتحہ سے ہی ایک نہایت واضح اور مکمل پروگرام بنایا جس پر چل کر اسلام ایسی ترقی حاصل کر سکتا ہے کہ دشمن اس کو دیکھ کر حیران رہے جائے اور اسلامی تمدن کی فوقیت کا اعتراف کیے بغیر اُس کے لیے کوئی چارہ کار نہ رہے۔اس پروگرام کے مطابق ان تمام غلطیوں کا بھی خدا تعالیٰ کے فضل سے ازالہ ہو سکتا۔ہے جو اور