خطبات محمود (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 778 of 778

خطبات محمود (جلد 25) — Page 778

1944ء 778 خطبات محمود اُس کے بداثرات سے ہمیں بچا۔ یہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا ہے۔ احرار کے فتنہ کے زمانہ میں ہم نے یہ دعا کی اور اسی دعا کے ذریعہ اللہ تعالی نے اپنے فضل سے احرار کو کچل کر رکھ دیا۔ اب دشمن پھر سر نکال رہا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اللہ تعالیٰ کے حضور باقاعدگی سے دعا مانگیں۔ اگر خدا تعالیٰ چاہے گا تو دشمن کو تباہ کر دے گا اور اگر خدا تعالیٰ اُس کو ڈھیل دے گا سے تو پھر اسی میں دین کا فائدہ ہوگا۔ اور ہمارا فائدہ اسی بات میں ہے جس میں دین کا فائدہ ہو۔ پس میں جماعت کو کسی اور بات کی اجازت نہیں دے سکتا۔ صرف اِس بات کی اجازت دیتا ہوں بلکہ تحریک کرتا ہوں کہ یکم جنوری 1945ء سے متواتر چالیس دن تک اللهم إِنَّا نَجْعَلُكَ فِي نُحُوْرِهِمْ وَنَعُوْذُبِكَ مِنْ شُرُوْرِهِمْ کی دعا مانگیں کہ اے خدا! حاکموں میں یار عایا میں سے ، غیر مسلموں میں سے یا مسلمان کہلانے والوں میں سے جو بھی ہمارے خلاف قدم اُٹھاتا ہے اور ہم پر حملہ آور ہوتا ہے ہماری طرف سے تُو ہی اُس کا مقابلہ کر اور اُن کی شرارتوں سے ہمیں محفوظ رکھ ۔ پس یہ طریقہ ہے اور یہی ہتھیار ہے جو دوسرے تمام ہتھیاروں مفید ہے۔ صبر و برداشت سے کام نہ لینا اور گالی کا جواب گالی سے دینا یہ اچھا ہتھیار نہیں۔ اور خدا تعالیٰ مذہبی جماعت سے اس کی امید نہیں کرتا۔ خدا تعالیٰ ہمیشہ نبیوں کی جماعت کو صبر کا حکم دیتا ہے کہ صبر کرو گے تو کامیابی ملے گی۔ فرماتا ہے اِنَّ اللهَ مَعَ الصَّابِرِينَ 2 کہ اللہ تعالیٰ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔ پس جبکہ ساری دنیا سے ہماری لڑائی ہے اور دشمن ہمیں برا بھلا کہتا ہے اگر ہم صبر کرنے والے نہ ہوں تو ہم وہ نہ ہوں گے جن کے ساتھ خدا ہوتا ہے۔ اور جن کے ساتھ خدا نہ ہو اُن سے بڑھ کر بد قسمت اور کون ہو گا۔ پس صبر کرو اور صبر کرو اور صبر کرو اور دعائیں کرو اور دعائیں کرو اور دعائیں کرو۔ تمہارے لیے تو گھبرانے کی کوئی بات ہی نہیں۔ جب بچہ ماں کی گود میں نہیں گھبراتا تو تم خدا کی گود میں ہوتے ہوئے کیونکر گھبر ا سکتے ہو؟" (الفضل 30 دسمبر 1944ء) 1 : ابوداؤد كتاب الصلوة باب ما يقول اذا خاف قوما 154 :2 : البقرة