خطبات محمود (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 776 of 778

خطبات محمود (جلد 25) — Page 776

1944ء 776 خطبات محمود تعلق رکھتے ہوں خدا تعالیٰ کے سامنے جواب دہ ہیں۔ اور خدا تعالیٰ کے سوا سب بادشاہ، لیمنٹر پار ہیملٹیں، وزیر، گورنر اور ماتحت افسر اسی طرح جواب دہ ہیں جس طرح کہ معمولی آدمی۔ جب خدا تعالیٰ نے اُن کو اعلیٰ مقام پر کھڑا کیا ہے تو ان کے لیے ضروری ہے کہ انصاف کریں۔ اور اگر وہ انصاف نہیں کریں گے تو ہم تو پھر بھی اس پر صبر کریں گے مگر ہمارا خدا صبر نہیں کرے گا اور یقینا کسی نہ کسی رنگ میں وہ لوگ جو اس صورتِ حالات کے ذمہ دار ہیں اس کی سزا خدا تعالیٰ کی طرف سے بھگتیں گے۔ جو حاکم یہ خیال کرتا ہے کہ چونکہ میں حاکم ہوں مجھے کوئی کچھ نہیں کر سکتاد نیوی نقطہ نگاہ سے خواہ صحیح ہو دینی نقطہ نگاہ سے ہر گز صحیح نہیں ہو سکتا۔ خدا تعالیٰ کا پکڑنا ایسے رنگ میں ہوتا ہے کہ اُس میں انسان کا دخل ہی نہیں ہوتا۔ پس میں حکام بالا کو ان کے فرائض کی طرف توجہ دلاتا ہوں۔ اُن کا فرض ہے کہ وہ مجسٹریٹ یا پولیس کے افسر جو اس صورت حالات کے ذمہ دار ہیں اُن کو سزا دیں اور آئندہ کے لیے اس قسم کی شرارت کا ازالہ کریں۔ جب سر ایمر سن جو پنجاب کے گورنر تھے اُن کے زمانہ میں احمدیت کی مخالفت شروع ہوئی تھی۔ کچھ عرصہ کے بعد جب وہ اپنی ٹرم (Term) پوری کر کے ریٹائر ہونے والے تھے تو ہوم گورنمنٹ نے اُن کی مدت کو اور بڑھا دیا تھا۔ جماعت کی طرف سے مجھے خطوط آئے کہ یہ تو ظلم ہے ایسا نہیں ہونا چاہیے تھا۔ میں نے اُن کو لکھا کہ میں نے تو سر ایمر سن کو مبارکباد دی ہے اس لیے کہ میرے ساتھ گورنمنٹ کا مقابلہ نہیں۔ اس کا مقابلہ تو خدا تعالیٰ سے ہے۔ پس اگر ان کی میعاد میں توسیع ہو گئی ہے تو اس میں بھی خدا کی کوئی حکمت ہو گی اس میں گھبرانے کی کونسی بات ہے۔ خدا کی قدرت گورنمنٹ نے اُن کی میعاد میں توسیع کر دی۔ مگر کچھ ہی دیر بعد وہ بیماری کی چھٹی لے کر ولایت چلے گئے۔ ڈاکٹروں نے اُنہیں کہہ دیا کہ آپ قطعی طور پر کام کرنے کے قابل نہیں، آپ کام سے فارغ ہو جائیں، آپ کا آپریشن ہو گا۔ چنانچہ وہ مستعفی ہو گئے اور ڈاکٹری رائے کے مطابق چند ہفتے آرام کرتے رہے۔ اس کے بعد جب وہ ڈاکٹروں کے پاس آپریشن کے لیے آئے تو ڈاکٹروں نے کہا کہ آپ تو اچھے بھلے ہیں، خبر نہیں ہم نے اُس وقت کس طرح یہ کہہ دیا تھا کہ آپ کام کے قابل نہیں۔ دیکھو کہ بغیر اس کے کہ ہم ایک لفظ بھی کہتے خدا تعالیٰ نے خود ہی ہماری طرف سے جواب دے دیا۔ پس جماعت کو صبر کرنا چاہیے