خطبات محمود (جلد 25) — Page 77
$1944 77 خطبات محمود افراد خود برداشت کرتے ہیں۔لیگوس میں بھی احمد یہ مدارس قائم ہیں اور جماعتیں ارد گرد کے علاقوں میں کثرت سے پھیلی ہوئی ہیں۔انہوں نے بھی اپنے ذاتی اخراجات پر مبلغ اور مدرس رکھے ہوئے ہیں۔ہم انہیں کوئی خرچ نہیں دیتے۔نائیجیریا میں بھی ہماری جماعت خدا تعالی کے ہے فضل سے کافی تعداد میں پائی جاتی ہے اور وہاں کے افراد بھی اخراجات کا بیشتر حصہ خود ادا کرتے ہیں۔یہ وہ مقامات ہیں جن میں سے بعض بعض جگہ پچیس پچپیں، تیس تیس ہزار احمدی پائے جاتے ہیں۔اور ان کے سالانہ جلسوں کے موقع پر ہی تین تین چار چار ہزار آدمی اکٹھے ہو جاتے ہیں اور یہ ساری جماعتیں ایسی ہیں جن میں سے ایک فرد بھی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ میں احمدی نہیں تھا، جن میں سے ایک فرد بھی حضرت خلیفہ اول ہے کے زمانہ میں احمدی نہیں تھا، جن میں سے ایک فرد بھی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے نام سے آشنا نہ تھا اور جن میں سے ہزاروں ایسے تھے کہ گو وہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ و کے نام سے آشنا تھے مگر در حقیقت آپ کے دشمن اور عیسائی مذہب کے پیرو تھے یا بُت پرست ہی تھے۔پھر خدا تعالیٰ نے ان کو میرے زمانہ میں ہی کلمہ توحید سکھایا اور ان کو مسلمان ہونے کی توفیق عطا فرمائی۔پھر اسلام کی تبلیغ کی ایک اہم ترین بنیاد اللہ تعالیٰ نے میرے ذریعے سے تحریک جدید کے ماتحت رکھ دی۔تحریک جدید ایک ایسی تحریک ہے کہ اس کا سارا سلسلہ ہی الہامی ہے۔اس لیے کہ تحریک جدید شروع ہوئی احرار اور گورنمنٹ کے ایک فعل سے۔اب کیا گورنمنٹ میرے اختیار میں تھی اور کیا میں نے اسے کہا تھا کہ وہ مجھے نوٹس دیتی ؟ پھر گورنمنٹ نے جو میں نوٹس دیا وہ در حقیقت غلطی سے دیا۔گورنمنٹ چاہتی تھی کہ احرار کے اجتماع کے موقع پر باہر سے احمدیوں کو نہ بلوایا جائے اور ہم نے اُس کی اس خواہش کو تسلیم کر لیا اور اُسے لکھ دیا کہ اس میں اجتماع کے موقع پر باہر سے احمدیوں کو نہیں بلایا جائے گا۔آگے اختلاف ہو جاتا ہے۔سی۔آئی۔ڈی کے جو افسر تھے وہ کہتے ہیں کہ میں نے گورنمنٹ سے کہہ دیا تھا کہ انہوں نے احرار کے اجتماع پر احمدیوں کو قادیان آنے سے منع کر دیا ہے۔لیکن باوجود اس کے گورنمنٹ نے نوٹس جاری کر دیا اور بالا افسر یہ کہتے ہیں کہ سی۔آئی۔ڈی کے سپر نٹنڈنٹ نے ہمیں آکر یہ