خطبات محمود (جلد 25) — Page 76
1944ء 76 خطبات محمود حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا نام پہنچا تھا۔ اور ممالک میں صرف اُڑتی ہوئی خبریں پہنچی تھیں اور وہ بھی یا تو مخالفوں کی پھیلائی ہوئی تھیں اور یا ایسا ہوا کہ کسی شخص کے پاس سلسلہ کی کوئی کتاب پہنچی اور اس نے آگے کسی کو دکھادی۔ باقاعدہ جماعت کسی ملک میں قائم نہیں تھی۔ حضرت خلیفہ اول کے زمانہ میں خواجہ کمال الدین صاحب انگلستان گئے مگر وہاں انہوں ہوا اس نے احمدیت کا ذکر سم قاتل قرار دے دیا۔ اس وجہ سے انگلستان میں جو مشن قائم کے ذریعہ احمدیت کا نام نہیں پھیلا ، حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا نام نہیں پھیلا۔ اگر پھیلا تو خواجہ صاحب کا نام پھیلا۔ اس کے بعد جب اللہ تعالیٰ نے میرے ہاتھ میں سلسلہ احمد یہ کی باگ دی تو میرے زمانہ میں خدا تعالیٰ کے فضل سے سماٹرا میں احمدیت پھیلی، جاوا میں احمدیت پھیلی ، سٹریٹ سیٹلمنٹ میں احمدیت پھیلی ، چین میں احمدیت پھیلی، ماریشس میں احمدیت پھیلی، افریقہ کے چاروں کناروں تک احمدیت پہنچی اور پھیلی، مصر میں احمدیت پھیلی ، شام میں احمدیت پھیلی، فلسطین میں احمدیت پھیلی، ایران میں احمدیت پہنچی، عراق میں احمدیت پہنچی، یورپ کے کئی ممالک میں احمدیت پہنچی، چنانچہ اٹلی میں احمدیت پہنچی، سپین میں احمدیت پہنچی، ہنگری میں احمدیت پہنچی، زیکو سلو یکیا میں احمدیت پہنچی، جرمنی میں احمدیت پہنچی اور خدا تعالیٰ کے فضل سے جماعتوں کے لحاظ سے انگلستان اور امریکہ میں بڑی بڑی احمدی جماعتیں قائم ہوئیں۔ اب ساؤتھ امریکہ میں آہستہ آہستہ احمدیت کا نام پھیل رہا ہے۔ گویا دنیا کے چاروں کناروں تک میرے زمانہ خلافت میں ہی احمدیت کا نام پہنچا اور مختلف مقامات پر کا جماعتیں قائم ہوئیں۔ ان میں سے بعض جماعتیں بہت ہی اہم ہیں اور خدا تعالیٰ کے فضل سے ان جماعتوں کے افراد ہزاروں کی تعداد میں ہیں۔ چنانچہ سماٹرا اور جاوا میں ہمارے جو مشن قائم ہیں ان کے ماتحت خدا تعالیٰ کے فضل سے ہزاروں احمدی ہیں۔ آجکل وہاں دشمن کا قبضہ ہے۔ اللہ تعالیٰ ہماری جماعت کے لوگوں کے ساتھ ہو اور ان کا حافظ و ناصر ہو۔ اس کے بعد افریقہ کی جماعتیں ہیں۔ ان میں سے بھی ایک ایک جماعت میں ہزاروں افراد پائے جاتے ہیں اور یہ اپنے اخراجات آپ برداشت کرتی ہیں۔ سیرالیون کی جماعت بالکل نئی ہے۔ مگر پھر بھی اس جماعت نے وہاں مدر سے قائم کر لیے ہیں، مبلغ رکھے ہیں اور ان تمام اخراجات کو وہاں کے