خطبات محمود (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 755 of 778

خطبات محمود (جلد 25) — Page 755

خطبات محمود 755 $1944 خدا تعالیٰ کے پیغامبر تھے۔اس کی ذمہ داری صرف مجھ پر نہیں بلکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر بھی نہیں خود قرآن کریم آپ کو مخاطب کر کے فرماتا ہے کہ تو داروغہ نہیں 14 حالانکہ آپ اسلام لانے والے تھے اور آپ کو حکم تھا کہ بلغ مَا أُنزِلَ إِلَيْكَ 15 اور اس لحاظ سے اسلام کی اشاعت کی ذمہ داری سب سے پہلے آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ہے۔اور جب ان کے متعلق اللہ تعالی خود فرماتا ہے کہ تو نگران، محافظ اور ذمہ دار نہیں تو میں کس نے طرح ذمہ دار ہو سکتا ہوں۔میں تو صرف بات پہنچاتا ہوں۔جن کے دل میں عشق اور محبت ہے اُن کو خود بخود اس پر عمل کرنا چاہیے۔لیکن جس کے دل میں محبت اور عشق نہیں اُن کو اگر ہزار حکم بھی دیے جائیں تو بھی وہ عمل نہیں کریں گے۔اثر تو عشق اور محبت کے نتیجہ میں ہوتا ہے کسی کے حکم دینے یازور دینے سے نہیں ہو سکتا۔ایک دفعہ ایک چندہ کے لیے تحریک کرنی تھی۔میں نے ایک دوست سے کہا کہ اس کے لیے تحریک لکھیں۔اور چونکہ وہ نرم طبیعت کے آدمی تھے میں نے کہا کہ ذرا زور دار ہے تحریک لکھیں۔اُن کی تو طبیعت ہی نرم تھی زور دار انہوں نے کیا لکھنا تھا انہوں نے تحریک ہے لکھی وہ شائع ہوئی تو بعض دوستوں نے مجھے آکر کہا کہ یہ عجیب بات ہے کہ اس تحریک میں بار بار یہ الفاظ آئے ہیں کہ میں زور سے کہتا ہوں۔تو اس طرح زور دینے سے کچھ نہیں بنتا بلکہ جو کچھ ہوتا ہے دل کی محبت اور عشق سے ہوتا ہے۔جس کے دل میں محبت ہے اس کے لیے تو یہ اشارہ ہی کافی ہے اور جس کے دل میں محبت ہی نہیں اُسے خواہ کتنے زور سے تحریک کی جائے ہے اُس پر اثر نہ ہو گا۔بلکہ جس کے دل میں محبت ہی نہیں اس پر تو لاٹھی سے بھی کوئی اثر نہیں ہے ہو سکتا۔پس جن لوگوں کے قلوب میں محبت ہے، اسلام کی خدمت کا احساس ہے اُن کو چاہیے کہ وہ اپنی زندگیوں کو سادہ بنائیں۔اور ایسا بنائیں کہ زیادہ سے زیادہ خدمت اسلام کرنے ہیں کے قابل ہو سکیں اور دنیا میں حقیقی مساوات قائم کر سکیں جس کے بغیر دنیا میں کبھی امن قائم نہیں ہو سکتا۔اور جب تک حقیقی مساوات قائم نہیں ہوتی دنیا سے مفاسد، تفرقے اور میں عیاشی کا خاتمہ نہیں ہو سکتا۔پس جن لوگوں کے دلوں میں محبت ہے وہ الفاظ کو نہیں دیکھتے۔