خطبات محمود (جلد 25) — Page 754
1944ء 754 خطبات محمود بارہ بارہ ہزار دینار دیے کیونکر کہا جا سکتا ہے کہ وہ ایک دینار پیش کرنے سے ڈر گئے۔ تو مومن یہ نہیں دیکھا کرتا کہ حکم کیا ہے۔ بلکہ یہ دیکھتا ہے کہ بات کی غرض و غایت کیا ہے اور پھر اُس پر عمل کرتا ہے اور اُس غرض کو پورا کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ سینما کے متعلق میرا خیال ہے کہ اس زمانہ کی بدترین لعنت ہے۔ اس نے سینکڑوں شریف گھرانے کے لوگوں کو گویا اور سینکڑوں شریف خاندانوں کی عورتوں کو ناچنے والی بنا دیا ہے۔ میں ادبی رسالے وغیرہ دیکھتارہتا ہوں اور میں نے دیکھا ہے کہ سینما کے شوقین اور اس سے تعلق رکھنے والے نوجوانوں کے مضامین میں ایسا تمسخر ہوتا ہے اور اُن کے اخلاق اور اُن کا مذاق ایسا گندا ہوتا ہے کہ حیرت ہوتی ہے۔ سینما والوں کی غرض تو روپیہ کمانا ہے نہ کہ اخلاق سکھانا۔ اور وہ روپیہ کمانے کے لیے ایسے لغو اور بے ہو دہ فسانے اور گانے پیش کرتے ہیں کہ جو اخلاق کو سخت خراب کرنے والے ہوتے ہیں اور شرفاء جب ان میں جاتے ہیں تو ان کا مذاق بھی بگڑ جاتا ہے اور ان کے بچوں اور عورتوں کا بھی جن کو وہ سینما دیکھنے کے لیے ساتھ لے جاتے ہیں۔ اور سینما ملک کے اخلاق پر ایسا تباہ کن اثر ڈال رہے ہیں کہ میں سمجھتا ہوں میر امنع کرنا تو الگ رہا اگر میں ممانعت نہ کروں تو بھی مومن کی روح کو خود بخود اس سے بغاوت کرنی چاہیے۔ اِسی طرح سادہ زندگی اختیار کرنے کی تحریک ہے۔ گو یہ بھی حکم نہیں بلکہ بعض حالات میں قرآن کریم کا حکم ہے کہ وَ أَمَّا بِنِعْمَةِ رَبِّكَ فَحَدِّثُ 12 اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھی فرمایا ہے کہ اگر خدا تعالیٰ کی طرف سے کوئی نعمت ہے تو انسان کے بدن پر بھی اُس کا اثر ظاہر ہونا چاہیے ۔ 13 مگر آج اسلام کے لیے قربانیوں کا زمانہ ہے اور ایسا زمانہ ہے کہ ہمیں چاہیے کہ اسلام کی خاطر قربانی کرنے کی غرض سے جائز خواہشات کو بھی جہاں تک چھوڑ سکیں چھوڑ دیں۔ جب تک ایسا نہ کیا جائے اسلام کو ترقی حاصل نہیں ہو سکتی۔ آج ہمیں جائز خواہشات کو بھی اسلام کے لیے ترک کر دینا چاہیے۔ اسلام میں نے نازل نہیں کیا بلکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف سے بھی یہ نہیں یہ تو خدا تعالیٰ نے نازل کیا مانے ہے۔ میں تو صرف اس کی خدمت کرنے والا ہوں۔ خود رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم