خطبات محمود (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 75 of 778

خطبات محمود (جلد 25) — Page 75

1944ء 75 خطبات محمود حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے تحریر فرمایا کہ "نو برس کے عرصہ تک تو خود اپنے زندہ رہنے کا ہی حال معلوم نہیں اور نہ یہ معلوم کہ اس عرصہ تک کسی قسم کی اولاد خواہ مخواہ پیدا ہو گی۔ چہ جائیکہ لڑکا پیدا ہونے پر کسی اٹکل سے قطع اور یقین کیا جائے"۔ 3 پھر آپ نے لکھا کہ اس پیشگوئی میں صرف یہی نہیں کہ نوبرس میں ایک لڑکا پیدا ہونے کی خبر دی گئی ہے بلکہ ساتھ ہی ایسی شرطیں لگا دی گئی ہیں کہ وہ لڑکا اسلام کی شان و شوکت کا موجب ہو گا۔ اور ایسی شرائط کے ساتھ کسی لڑکے کا پیدا ہونا " انسانی طاقتوں سے بالاتر " اور " بڑا بھاری آسمانی نشان " ہے۔ 4 کسی انسان کے اختیار میں یہ بات نہیں کہ وہ ایسا کر سکے ۔ وہ بھی کیا زمانہ تھا کہ جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام پر چاروں طرف سے دشمنوں کے حملے ہو رہے تھے۔ محض اس بناء پر کہ آپ نے الہام کا دعوی کیا ہے۔ آپ نے مجددیت کا دعوای اُس وقت نہیں کیا تھا۔ ماموریت کا دعوی اُس وقت نہیں تھا۔ صرف الہام نازل ہونے کا دعوی کیا اور دنیا آپ کی مخالف ہو گئی۔ صرف چند افراد آپ کے ساتھ تھے۔ اُس وقت اللہ تعالیٰ نے آپ کو بتایا کہ تمہیں ایک ایسا لڑ کا ملے گا جو صاحب شکوہ اور عظمت ہو گا جو تمہارے رنگ میں رنگین ہو کر اصلاح کے لیے کھڑا کیا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ اس کے ساتھ ہو گا۔ وہ سلسلہ اور اسلام کی بہتری کے سامان مہیا کرے گا اور دنیا کے کناروں تک شہرت پائے گا۔ یہ صاف بات ہے کہ جو شخص کسی کا نائب ہونے کی حیثیت سے کھڑا کیا جائے گا وہ جب دنیا کے کناروں تک شہرت پائے گا تو جو اُس کا آقا اور مطاع ہے اُس کا نام بھی دنیا کے کناروں تک ضرور پہنچے گا۔ پس جب خدا تعالیٰ نے یہ کہا کہ وہ "زمین کے کناروں تک شہرت پائے گا " تو اس کے معنے یہ تھے کہ اس کے ذریعہ حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا نام بھی دنیا کے کناروں تک پہنچے گا۔ اب دیکھ لو! یہ پیشگوئی کتنی واضح ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ میں بیرونی ممالک میں سے صرف افغانستان ہی ایک ایسا ملک تھا جہاں کسی اہمیت کے ساتھ