خطبات محمود (جلد 25) — Page 743
خطبات محمود 743 $1944 اور اس سال ایک نئی بات یہ پیدا ہو گئی ہے کہ چونکہ گاڑیوں کے دروازوں میں اور پائیدانوں پر کھڑے ہو کر سفر کرنے کی وجہ سے ایسے حوادث ہوئے ہیں جن کے نتیجے میں کئی اموات ہوتی رہی ہیں اس لیے قریباً ایک ہی ہفتہ ہوا گورنمنٹ نے ایک نیا آرڈیننس جاری کر دیا ہے کہ اگر کوئی شخص گاڑی کے دروازہ میں یا پائیدان پر کھڑا ہو کر سفر کرتا ہوا پایا گیا تو اسے قید کی سزا دی جائے گی۔اور قادیان آنے کے لیے اول تو ویسے بھی گاڑیوں کا انتظام کم ہے اور پھر جب گاڑیوں کے کمروں میں عورتیں بھر جاتی ہیں تو مردوں کو مجبوراً باہر کھڑے ہو کر سفر کرنا پڑتا ہے اور گور نمنٹ نے جو حکم نافذ کیا ہے اُسے اُس نے ضرور پورا کرنا ہے اور دوسری طرف گاڑیوں کے اندر گنجائش نہ ہونے کی وجہ سے مردوں کے لیے باہر کھڑے ہو کر سفر کرنے کے سوا چارہ نہ ہو گا۔تو اس کے معنے یہ ہوں گے کہ ہمارے سینکڑوں آدمی بلا وجہ اور بغیر کسی ایسے قانون کو توڑنے کے جس سے ملک کا امن برباد ہو تا ہو قید و بند کی مصیبت میں مبتلا ہو جائیں گے۔پس عورتوں میں بیماری کی کثرت، بارشوں کے نہ ہونے کی وجہ سے ، خشک سردی کے باعث بچوں اور عورتوں کے بیماریوں کا شکار ہو جانے کے خطرہ اور گورنمنٹ کے اس نئے قانون کی وجہ سے میں اعلان کرتا ہوں کہ پنجاب کی عورتیں اس سال جلسہ سالانہ پر نہ آئیں۔اس میں میں یہ استثنا کر دیتا ہوں کہ بعض لوگوں کے رشتہ دار کہیں دور دراز مقامات پر باہر گئے ہوئے ہوتے ہیں اُن کے ہاں شادی وغیرہ کا موقع ہوتا ہے اور وہ جلسہ کے موقع پر ہی شادی کی تاریخ رکھ لیتے ہیں اور اس وجہ سے اُن کی عورتوں کا آنا ضروری ہو جاتا ہے وہ آسکتی ہیں۔یا جن عورتوں کے ساتھ بچے نہ ہوں یا جن کو سفر کی سہولتیں حاصل ہوں مثلاً وہ فرسٹ اور سیکنڈ کلاس میں سفر کر سکتی ہوں یا موٹر میں کر سکتی ہوں وہ بھی اِس سے مستثنیٰ ہیں مگر عور تیں بالعموم اس سال جلسے پر نہ آئیں سوائے کسی اشد ضرورت کے۔مثلاً جیسا کہ میں نے بتایا ہے شادی کی کوئی تقریب ہو یا اور کوئی ایسی ہی ضرورت ہو۔انسان کے لیے کوئی مکمل قانون بنانا مشکل ہوتا ہے۔ممکن ہے کسی کو کوئی ایسی ضرورت پیش آجائے جو اس وقت میرے ذہن میں نہ ہو۔ایسی صورت میں تو عورتوں کو اجازت ہے اور ایسی ہی عورتیں آسکتی ہیں۔