خطبات محمود (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 74 of 778

خطبات محمود (جلد 25) — Page 74

خطبات محمود 74 $1944 تک نہ تھا، جس کو ایک ایسی قوم کی حکومت سپرد کی گئی جس کا خزانہ خالی تھا، جس کو ایک ایسی قوم کی حکومت سپرد کی گئی جس کے اپنے سردار اور تجربہ کار لیڈر اسے چھوڑ کر جارہے تھے۔میدان دشمن کے قبضہ میں تھا اور وہ اس بات پر خوشیاں منا رہا تھا کہ ہمارے جاتے ہی اس قوم کی عمارتوں پر عیسائی قابض ہو جائیں گے اور اس کی ترقی کے ایام تنزل اور ادبار سے بدل جائیں گے۔تم سمجھ سکتے ہو، ایسے نازک حالات میں اس قوم کا کیا حال ہو سکتا ہے۔مگر وہ دن گیا اور آج کا دن آیا۔دیکھنے والے دیکھ رہے ہیں کہ جماعت کی جو تعداد اس وقت تھی جب وہ میرے سپرد کی گئی آج خدا تعالیٰ کے فضل سے اس سے سینکڑوں ملنے زیادہ ہے۔جن ملکوں میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا نام پہنچ چکا تھا آج اس سے جیوں گنے زیادہ ممالک میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا نام پہنچ چکا ہے۔جس خزانے میں صرف اٹھارہ آنے تھے آج اس میں لاکھوں روپیہ پایا جاتا ہے۔جس جماعت کے افراد نہایت کمزور حالت میں تھے آج اس جماعت کے افراد ہر لحاظ سے ترقی کر چکے ہیں۔اگر میں آج بھی مر جاؤں تب بھی میں خزانہ میں اُس سے بہت زیادہ روپیہ چھوڑ کر جاؤں گا جو مجھے ملا۔میں اس سے بہت زیادہ جماعت چھوڑ کر جاؤں گا جو مجھے ملی۔میں ان سے بہت زیادہ علماء چھوڑ کر جاؤں گا جو مجھے ملے تھے۔میں سلسلہ کی تائید میں اس سے بہت زیادہ کتابیں چھوڑ کر جاؤں گا جو مجھے ملیں اور میں سلسلہ کی خدمت کے لیے ان سے بہت زیادہ علوم چھوڑ کر جاؤں گا جو مجھے اس وقت ملے تھے جب خدا نے مجھے خلافت کے مقام پر کھڑا کیا۔پس وہ جو خدا نے کہا تھا کہ " وہ جلد جلد بڑھے گا" اور "خدا کا سایہ اس کے سر پر ہو گا " وہ پیشگوئی ایسے عظیم الشان رنگ میں پوری ہوئی ہے کہ دشمن سے دشمن بھی اس کا انکار نہیں کر سکتا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس پیشگوئی کو اتنا اہم قرار دیا ہے کہ آپ ہے فرماتے ہیں " یہ صرف پیشگوئی ہی نہیں بلکہ ایک عظیم الشان نشانِ آسمانی ہے "۔2 جس کو خدا نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صداقت و عظمت ظاہر کرنے کے لیے نازل کیا ہے۔پس وہ شخص جو اس پیشگوئی کو سمجھ کر اس پر ایمان لاتا ہے، وہ اللہ تعالیٰ کا ایک ایسا عظیم الشان نشان دیکھتا ہے جس کی مثال اور نشانوں میں بہت کم ملتی ہے۔جیسے