خطبات محمود (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 711 of 778

خطبات محمود (جلد 25) — Page 711

خطبات محمود 711 $1944 اُن سے کہا کہ آپ یہ بتائیں کہ بادشاہ کے نوکر کو کبھی یہ بھی فکر ہو سکتا ہے کہ اُسے کھانا کہاں سے ملے گا؟ وہ تو جانتا ہے کہ جہاں سے بادشاہ کے لیے آئے گا اُس کے لیے بھی آجائے گا۔اگر ان صوفیاء میں جن کی مجالس کے قصے آپ بیان کرتے ہیں اللہ تعالی پر حقیقی تو کل ہو تو انہیں ہے کوئی ذاتی ہوس نہ ہو اور دنیا کی محبت اُن کے قلوب سے سرد ہو جائے۔آپ جن صوفیاء کا ذکر کرتے ہیں کیا آپ کہہ سکتے ہیں کہ اُن میں حقیقی تو گل پایا جاتا ہے ؟ اور کیا انہیں اللہ تعالی پر ایسا ایمان ہے کہ وہ خود اُن کا کفیل ہو گا اور یہ کہ انہیں بندوں کی مدد کی ضرورت نہیں ؟ اس پر اُن کی سمجھ میں بات آگئی اور اُنہوں نے کہا کہ بس اب میں سمجھ گیا۔انہوں نے کہا کہ میرے ایک استاد تھے اور جب بھی میں اس قسم کے سوالات کرتا تھا تو مجھے انہی کا خیال آیا کرتا تھا مگر اُن کی عادت یہ تھی کہ جب غلہ نکلنے کا موسم آتا تو وہ زمینداروں سے کہا کرتے تھے کہ ہمارا بھی خیال رکھنا۔تو آج صوفیاء میں حقیقی تو کل نام کو باقی نہیں رہا۔کئی ایسے ہیں جو تصوف کی آڑ میں ٹھگ بنے پھرتے ہیں اور لوگوں کے زیورات اور نقدی و غیرہ کسی نہ کسی بہانہ سے ٹھگ کر لے جاتے ہیں۔آج مسلمانوں میں نہ ظاہری شان و شوکت ہے نہ علوم ظاہری ہیں اور نہ تصوف۔ہر لحاظ سے ان پر ایک جمود کی حالت طاری ہے۔دیکھو ! عیسائیت کتنا جھوٹا مذہب ہے۔وہ ایک بندے کو خدا بناتا ہے مگر اُن کے پادری کس جوش سے کام کرتے ہیں۔کہیں وہ لوگوں کو علوم سیکھنے کی تحریک کرتے ہیں، کہیں لوگوں کو علوم سکھاتے ہیں، کہیں غرباء کی خدمت کرتے ہیں، کہیں بہاروں کا علاج کرتے ہیں، مصیبت زدہ لوگوں کی مصائب اور مشکلات میں مدد کرتے ہیں اور ان میں ایک استغناء کا رنگ نظر آتا ہے، ایک وقار پایا جاتا ہے۔مگر ان کے مقابل مسلمان مولویوں کی کیا حالت ہے۔اِلَّا ماشاء اللہ ان میں سے چند ایک کو چھوڑ کر باقی سب میں بددیانتی پائی جاتی ہے۔میں نے بچپن ہے میں ایک دفعہ دیکھا کہ رام باغ امر تسر میں ایک مولوی صاحب جارہے تھے اور پیچھے پیچھے ایک غریب آدمی اُن کی منتیں کرتا جاتا تھا اور وہ مولوی صاحب اُسے جھڑ کتے اور گالیاں دیتے جاتے تھے۔آخر مولوی صاحب آگے نکل گئے اور وہ بیچارہ پیچھے رہ گیا۔میں نے اس سے پو چھا کہ کیا ہے بات ہے؟ اس نے بتایا کہ میں مزدوری کرتا ہوں۔مزدوری سے ہی تھوڑے تھوڑے پیسے