خطبات محمود (جلد 25) — Page 689
خطبات محمود 689 $1944 میرے نزدیک اب وقت آگیا ہے کہ ہمارے تاجر اور صناع ایک کمیٹی بنائیں جو صرف تاجروں اور صناعوں پر مشتمل ہو۔اور اُس کمیٹی کے قیام کی اصل غرض یہ ہو کہ وہ اپنے کارخانے اور اپنی تجارتیں اس رنگ میں چلائیں گے کہ دین کو تقویت حاصل ہو اور سلسلہ کی عظمت میں اضافہ ہو۔(2) دوسرے اس کمیٹی کی تشکیل کے بعد انہیں اس بات کا فیصلہ کرنا چاہیے کہ وہ آئندہ اس طرح کام کریں گے کہ دوسرے دوستوں کے لیے بھی کام مہیا ہو سکے اور ہر جگہ احمدیوں کی تجارت مضبوط ہو۔گویا اُن کی کوشش یہ ہونی چاہیے کہ وہ ایک تنظیم کے ماتحت دوسرے شہروں اور دوسرے علاقوں بلکہ دوسرے ملکوں میں بھی اپنی تجارت کو پھیلائیں گے۔اور جو غریب احمدی ہوں گے اُن کی مدد کر کے انہیں کام پر لگائیں گے اور انہیں بھی تجارتوں اور میں کارخانوں کی ترقی کے اصول سے واقف کریں گے تاکہ تَعَاوُن عَلَى الْبِرِّ وَ التَّقْوَى سلسلہ اُن کی طرف سے جاری رہے اور جماعت کے غریب طبقہ کی ترقی کا سامان ہو تا رہے۔پھر نہ صرف انہیں غریب احمدیوں کی مدد کرنی چاہیے بلکہ اگر وہ ترقی کر کے دوسرے مسلمانوں کی مدد کر سکیں تو یہ اور بھی بہتر ہے۔بلکہ اس سے بڑھ کر اگر وہ ہندوؤں اور سکھوں کی مدد کر سکیں تو ان کی مدد کرنے سے بھی انہیں کوئی دریغ نہیں ہونا چاہیے۔بالخصوص اچھوت اقوام میں ایسی ہیں کہ ان کی طرف خاص طور پر توجہ کرنے کی ضرورت ہے۔یہ امر یا درکھنا چاہیے کہ ایک مسلمان کا تعاون محدود نہیں ہو تا بلکہ غیر معمولی طور پر وسیع ہوتا ہے۔بے شک پہلا حق اپنی جماعت کا ہوتا ہے لیکن انہیں یہ کبھی خیال تک بھی اپنے دل میں نہ لانا چاہیے کہ ہم دوسروں کی مدد نہیں کریں گے۔اگر وہ ایسا خیال اپنے دلوں میں پیدا کرتے ہیں تو ایک گناہ کا ارتکاب کرتے ہیں۔مثلاً تجارت ہے اس کے متعلق یہ ایک حقیقت ہے کہ یہ کثرت سے ہندؤوں کے ہاتھ میں ہے۔مگر پھر بھی سارے ہندؤوں کے ہاتھ میں تجارت نہیں۔بلکہ خود ہندؤوں میں سے ایک طبقہ بہت بُری حالت میں ہے اور وہ اس بات کا مستحق ہے کہ اُس کی مدد کی جائے۔اسی طرح سکھ اکثر زمیندار ہوتے ہیں۔اسلامی حکومت کے تنزل کے وقت سکھوں نے فائدہ اٹھا کر بہت سی زمینوں پر قبضہ کر لیا تھا مگر پھر بھی