خطبات محمود (جلد 25) — Page 688
1944ء 688 خطبات محمود شوکت اور اُس کی ترقی کو مد نظر رکھیں گے اور مزدوروں کو اُن کا حق ادا کریں گے تو اس کا یہ نتیجہ ہو گا کہ دنیوی لحاظ سے بھی اُن کو کوئی نقصان نہیں ہو گا اور اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں بھی وہ دین کا کام کرنے والے قرار پا جائیں گے۔ آخر دنیوی لحاظ سے جو فائدہ ایک ایسے تاجر کو حاصل ہو سکتا ہے جو محض دنیا کمانے کے لیے تجارت کرتا ہے وہی فائدہ اُس تاجر کو بھی حاصل ہوتا ہے جو دینی قواعد کی پابندی کرتے ہوئے تجارت کرتا ہے، جس طرح وہ بوٹ فروخت کرتا ہے اُسی طرح یہ بھی بوٹ فروخت کرتا ہے، جس طرح وہ لوہا بیچتا ہے اُسی طرح یہ بھی لوہا بیچتا ہے، جس طرح وہ کپڑا بیچتا ہے اُسی طرح یہ بھی کپڑا بیچتا ہے اور جس طرح وہ نفع کماتا ہے اُسی طرح یہ بھی نفع کماتا ہے لیکن اگر یہ شخص اس نیت اور اس ارادے سے کپڑے بیچتا یا بوٹوں کی تجارت کرتا یا لوہا فروخت کرتا ہے کہ اسلام کو فائدہ حاصل ہو، دین کی شوکت اور اُس کی طاقت میں اضافہ ہو، قومی رعب میں ترقی ہو، جماعت کی اقتصادی حالت درست ہو اور اس نیت کے ماتحت وہ اسلام کی مقرر کردہ پالیسی اور نظام اور قانون کے ماتحت تجارت کرتا ہے تو روٹی تو وہ بھی کماتا ہے مگر اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں جب وہ بوٹ یا کپڑا یا لوہا یا تیل یا کوئی اور چیز فروخت کر رہا ہوتا ہے تو وہ ایسا ہی سمجھا جاتا ہے جیسے وہ دین کا کام کر رہا ہے۔ وہ بُوٹ نہیں بیچتا بلکہ کفر کی بربادی کے سامان کرتا ہے اور وہ پیسے لے کر اپنے گھر میں واپس نہیں لوٹتا بلکہ خدا تعالیٰ کی رضا اور اُس کی محبت کا تحفہ لے کر گھر میں آتا ہے۔ پس تجارت اور صنعت جو بظاہر دنیوی ترقی کے اسباب میں سے ہیں اور جن کا دین کے ساتھ کوئی تعلق معلوم نہیں ہوتا یہ سب کی سب دین بن جاتی ہے بشرطیکہ اسلام کی شوکت اور دین کی ترقی میں یہ چیزیں محمد ہوں۔ یہ مضمون بہت وسیع ہے اور کسی ایک خطبہ میں اس مضمون کی تمام تفصیلات کو بیان نہیں کیا جا سکتا لیکن چونکہ میں ایک ہی خطبہ میں اس مضمون کو ختم کرنا چاہتا ہوں اس لیے میں خلاصہ اس طرف توجہ دلاتا ہوں کہ : (1) ہماری جماعت کے تاجر اور صناع آپس میں تعاون کریں اور ایک ایسی کمیٹی بنائیں جس کی غرض یہ ہو کہ وہ اپنے کارخانے اور تجارتیں اس طرح چلائیں گے کہ دین کی مدد ہو۔