خطبات محمود (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 683 of 778

خطبات محمود (جلد 25) — Page 683

1944ء 683 خطبات محمود مجھے نہایت افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ میں نے اس ملک میں پوری دیانتداری اور محنت کے ساتھ کام کرنے والا ایک مزدور بھی نہیں پایا۔ خواہ لوہار ہوں، نتجار ہوں، معمار ہوں سب میں میں نے یہ نقص دیکھا ہے کہ اُن کی کوشش یہ ہوتی ہے کہ آنکھ بچا کر کسی طرح کام سے بچ جائیں۔ دوسری طرف مالکوں کی یہ حالت ہوتی ہے کہ وہ مزدوروں کا خون چوستے رہتے ہیں اور اُن کی جائز مزدوری دینا بھی اُن کے لیے مشکل ترین مرحلہ ہوتا ہے۔ اسلام انے نے اس نقص کی طرف بھی تاجروں اور صناعوں کو خاص طور پر توجہ دلائی ہے اور ہدایت کی ہے کہ مزدور کو اس کی پوری مزدوری دو اور پھر وہ مز دوری عین وقت پر دو۔ گیارھویں بات یہ ہے کہ انسان کے اندر تکبر اور خیلاء وغیرہ پیدا نہ ہو۔ دولت کمانے سے اسلام کبھی منع نہیں کرتا۔ اسلام صرف یہ کہتا ہے کہ تم دولت تو کماؤ مگر وہ دولت امیر اور غریب میں فرق پیدا کرنے کا موجب نہ بن جائے۔ اگر کوئی دولت امیر اور غریب میں فرق ڈال دیتی ہے، امارت اور غربت میں امتیاز پیدا کر دیتی ہے تو وہ دولت اسلامی نقطہ نگاہ سے نا جائز ہو گی ۔ اگر کوئی امیر اپنے غریب بھائی سے مل کر بیٹھ نہیں سکتا، اگر وہ ایک دستر خوان پر اُس کے ساتھ کھانا نہیں کھا سکتا ، اگر وہ ملنے کے لیے آتا ہے تو امیر آدمی اُس سے اپنی پیٹھ موڑ لیتا ہے یا وہ بات کرتا ہے تو یہ غصے اور جوش کی حالت میں اُس سے کہتا ہے تم جانتے نہیں میں کون ہوں ؟ تو یہ سمجھ لینا چاہیے کہ وہ شخص دولت کمانے کے بعد انسان نہیں رہا بلکہ حیوان بن گیا ہے۔ اور دولت صرف انسان کے لیے جائز ہے حیوان کے لیے جائز نہیں۔ لیکن اگر کسی شخص کے پاس دولت تو آجاتی ہے مگر اس کے باوجود اس میں اور دوسرے غریب بھائیوں میں مغائرت کی کوئی دیوار حائل نہیں ہوتی، وہ اپنے آپ کو کوئی علیحدہ جنس سمجھنے نہیں لگتا، وہ دوسروں کو تحقیر اور تذلیل کی نگاہ سے نہیں دیکھتا، وہ اُن سے محبت کے ساتھ بات چیت کرتا ہے، اُن کے دُکھ سکھ میں شریک ہوتا ہے، اپنے آپ کو کوئی الگ قسم کا آدمی اور غریبوں کو کوئی الگ قسم کا آدمی نہیں سمجھتا تو ایسے شخص کے لیے دولت کمانا بالکل جائز ہے۔ بارھویں میں نے بتایا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں ایک یہ حکم بھی دیا ہے کہ كُتِبَ عَلَيْكُمْ إِذَا حَضَرَ أَحَدَكُمُ الْمَوْتُ إِنْ تَرَكَ خَيْرًا الْوَصِيَّةُ لِلْوَالِدَيْنِ وَ الْأَقْرَبِينَ