خطبات محمود (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 669 of 778

خطبات محمود (جلد 25) — Page 669

خطبات محمود 669 $1944 دو چار سیر گیہوں ڈال کر کسی ملا کو بلاتا اور اُس کی خوب پر تکلف دعوت کرتا۔جب وہ کھانے سے فارغ ہو جاتا تو اُسے کہتا مولوی صاحب! اِس گھڑے میں جو کچھ ہے وہ میں آپ کی ملک کرتا ہوں۔لوگوں کو بھی اُس کے اس طریق کا علم تھا اور وہ جانتے تھے کہ گھڑے میں اس نے زکوۃ کا روپیہ رکھا ہوا ہے جو اڑھائی یا تین ہزار روپیہ ہے۔مگر اُسے کچھ کہہ نہیں سکتے تھے۔تھوڑی دیر کے بعد وہ خود ہی کہتا کہ آپ اس گھڑے کو اٹھا کر کہاں لے جائیں گے اسے میر۔پاس ہی بیچ ڈالیے۔بتائیے آپ اس گھڑے کی کیا قیمت لیں گے ؟ ملا ڈرتے ڈرتے کہ نہ معلوم کس حد تک سودا ہو پانچ دس یا پندرہ روپے بتاد بنا تھا اور وہ جھٹ اتنے روپے نکال کر اُس کے سامنے رکھ دیتا اور کہتا کہ مولوی صاحب! جو کچھ اس میں ہے وہ آپ نے پندرہ روپے میں مجھے دے دیا ہے۔یہ کہہ کر وہ گھڑا اُٹھا کر اندر رکھ لیتا اور سمجھ لیتا کہ اُس کی طرف سے زکوۃ ادا ہو گئی ہے۔تو دنیا میں اس قسم کی دھوکا بازی کرنے والے لوگ بھی پائے جاتے ہیں جو خدا تعالیٰ کے احکام سے تمسخر کرتے ہیں اور پھر یہ سمجھتے ہیں کہ اُن پر خدا تعالیٰ کی طرف سے جو فرض عائد ہوتا تھا اُس کو انہوں نے ادا کر دیا ہے۔ہماری جماعت میں خدا تعالیٰ کے فضل سے اس قسم کے لوگ تو نہیں مگر ابھی ہماری جماعت میں لوگ احتیاط سے زکوۃ ادا نہیں کرتے۔بالخصوص تاجروں میں زکوۃ کے معاملے میں بہت بڑی کو تاہی پائی جاتی ہے حالانکہ زکوۃ کے متعلق اسلامی شریعت میں اتنے شدید احکام پائے جاتے ہیں کہ صحابہ کا فیصلہ یہ ہے کہ جو شخص زکوۃ ادا نہ کرے وہ مسلمان ہی نہیں رہتا۔وجہ یہ ہے کہ قرآن کریم میں خدا تعالیٰ نے یہ اصول بیان فرمایا ہے کہ تم جو کچھ مال کماتے ہو اُس میں دوسرے لوگوں کا بھی حصہ ہے۔کیونکہ مال جن چیزوں سے کمایا جاتا ہے وہ ساری کی ساری ایسی ہیں جو کسی خاص شخص کی ملک نہیں بلکہ ساری دنیا ان پر حق رکھتی ہے۔مثلاً تجارت کو لے لو، تجارت لوہے کی ہوتی ہے یا لکڑی کی ہوتی ہے یا اور بعض چیزوں کی ہوتی ہے ہے۔مگر کیا لوہا اور لکڑی تاجر آپ بناتا ہے؟ اللہ تعالی نے لکڑی بنائی ہے سارے انسانوں کے مین لیے، اللہ تعالی نے کوئلہ بنایا ہے سارے انسانوں کے لیے، اللہ تعالی نے مٹی کا تیل بنایا ہے سارے انسانوں کے لیے اللہ تعالیٰ نے کپاس بنائی ہے سارے انسانوں کے لیے اللہ تعالیٰ نے یہ