خطبات محمود (جلد 25) — Page 646
1944ء 646 خطبات محمود ہو گئے۔ ایک حلقہ کی طرف سے صرف ایک زبان میں قرآن کریم کے ترجمہ اور اُس کی اشاعت کا خرچ، اِسی طرح ایک زبان میں کسی ایک کتاب کے ترجمہ اور اُس کی اشاعت کا خرچ لیا جائے گا۔ میں سمجھتا ہوں اگر وہ لوگ جنہیں زائد حصہ دیا گیا تھا قربانی اور ایثار سے کام لیتے ہوئے اِس موقع پر اپنے حق کو ترک کر دیں تو یہ دوسرے لوگوں کی دلجوئی اور اُن کی خوشی کا موجب ہو گا۔ اُنہیں اللہ کی طرف سے جو ثواب ملنا تھا وہ تو مل گیا۔ کیونکہ جب اُنہوں نے انہوں نے میری طرف سے ایک آواز کے بلند ہونے پر اپنا وعدہ لکھوا دیا تو اللہ تعالیٰ نے اُن کو ثواب دے دیا۔ پس اگر وہ اس موقع پر اپنے حق ترک کر دیں گے تو اِس سے اُن کے ثواب میں کوئی فرق نہیں آسکتا اور نہ اُن کے اخلاص میں اِس سے کوئی کمی آئے گی۔ اُنہوں نے اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے جو وعدہ کیا تھا اُس کا ثواب خدا نے اُن کو دے دیا۔ اب اگر وہ چاہیں تو قربانی کر کے اپنے اس حق کو اوروں کے لیے ترک کر دیں تاکہ اُن کے وہ بھائی جو اب تک اس ثواب میں شامل نہیں ہو سکے اور جن کے دل اس شوق سے تڑپ رہے ہیں کہ اُنہیں بھی اس تحریک میں شمولیت کا موقع ملے وہ بھی اس میں شامل ہو جائیں اور ان کے دل بھی اطمینان اور سکون حاصل کریں۔ لیکن اگر وہ اپنے حق کو ترک کرنا نہ چاہیں تو پھر دوسرے لوگوں کو چاہیے کہ وہ صبر سے کام لیں اور قرآن کریم کے کسی ترجمہ کی چھپوائی اور ایک کتاب کے ترجمہ اور چھپوائی پر کفایت کریں۔ اللہ تعالیٰ ان کے لیے نیکیوں میں حصہ لینے کے اور کئی راستے کھول دے گا۔ بہر حال میں نے اپنا حق چھوڑ دیا ہے اور لجنہ اماء اللہ کو جو ایک زائد حق دے دیا گیا تھا وہ بھی ایک زائد حق دے دیا گیا تھا وہ بھی میں نے اُس سے واپس لے لیا ہے۔ باقی دوستوں کی طرف سے بعض درخواستیں آئی تھیں جن کو قبول کر لیا گیا اور چونکہ میں نے اُن کے وعدوں کو منظور کر لیا تھا اِس لیے میں اُنہیں حکما تو نہیں کہہ سکتا کہ وہ اپنے حق کو چھوڑ دیں لیکن میں نے اپنی مثال ان کے سامنے پیش کر دی ہے۔ اور میں امید کرتا ہوں کہ وہ میری اس مثال کو سامنے رکھتے ہوئے خود بھی دوسروں کے لیے نمونہ پیش کریں گے اور اپنے حصہ کو بعض دوسری جماعتوں اور افراد کے لیے چھوڑ دیں گے۔ اور اپنا موعودہ چندہ ان جماعتوں کے چندہ میں شامل کر دیں گے تاکہ انہیں بھی اس ثواب میں شامل ہونے کا موقع مل سکے۔ اس تقسیم کے مطابق