خطبات محمود (جلد 25) — Page 638
خطبات محمود 638 $1944 اور اپنی جان اسلام کے لیے قربان کر دیتا ہے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے شہید قرار دیا ہے۔لیکن شہادت صرف یہی نہیں بلکہ اور بھی کئی قسم کی شہادتیں ہیں جنہیں اسلام نے تسلیم کیا ہے۔انہی شہادتوں میں سے ایک یہ بھی شہادت ہے یعنی اگر ہماری جماعت کا کوئی شخص اس جنگ میں مارا جاتا ہے تو وہ یقیناً شہید ہے۔بشر طیکہ اس کی نیت درست ہو اور وہ محض اسی ارادہ سے اس جنگ میں شامل ہوا ہو کہ مجھے اپنے امام کی طرف سے یہ بتایا گیا ہے کہ دنیا سے ظلم اور تعدی کو مٹانے اور اسلام کے راستہ سے مختلف قسم کی روکوں کو دور کرنے کے لیے اس جنگ میں شمولیت ضروری ہے۔پس وہ لوگ جو میرے حکم کے مطابق فوج میں بھرتی ہوئے ہیں اُن کا حق یقیناً ہم نظر انداز نہیں کر سکتے۔اسی طرح وہ لوگ جن کو اِس چندہ میں بالکل شامل نہیں کیا گیا اور انہیں اس ثواب میں شامل ہونے کا موقع نہیں ملا اُن کا اعتراض بھی ہے وزنی ہے۔ان حالات میں میں نے غور کیا کہ کیا میں کوئی ایسی تدبیر اختیار کر سکتا ہوں جس میں سے یہ تمام اعتراضات مٹ جائیں۔آخر غور کرنے کے بعد میں اس نتیجہ پر پہنچا کہ سب۔میں اپنی قربانی پیش کروں اور اس ذریعہ سے دوسرے دوستوں کے لیے اس تحریک میں شامل ہونے کا راستہ صاف کر دوں۔چنانچہ میں نے فیصلہ کیا کہ میں نے جو ایک ترجمۃ القرآن اپنے اور اپنے خاندان کے لیے مخصوص کیا ہوا تھا میں اس ترجمہ کی رقم کو قادیان کے چندہ میں میں ہی جمع کرادوں اور اپنا حق چھوڑ دوں۔میں نے جس رقم کا وعدہ کیا تھاوہ بہر حال قائم رہے گی یہ لیکن اب بجائے اس کے کہ وہ ترجمہ القرآن میری طرف سے شائع ہو قادیان کی جماعت کی امین طرف سے شائع ہو گا اور میرا چندہ بھی قادیان کے چندہ میں ہی شامل ہو گا۔لجنہ اماء اللہ کو جو حصہ حق کے طور پر مل سکتا ہے وہ در حقیقت ایک ہی ہے۔دوسرا حصہ اُن کو زائد طور پر اِس امید پر دیا گیا تھا کہ وہ اس حصے کا بوجھ بھی اٹھا سکیں گی اور زائد طور پر اس قدر چندہ اکٹھا کر لیں گی۔خود لجنہ کی طرف سے اس قسم کی درخواست نہیں آئی تھی۔پس وہ دوسر ا حصہ جو لجنہ اماءاللہ کو دیا گیا تھا اُس سے بھی میں لجنہ اماء اللہ کو فارغ کرتا ہوں۔ان دو حصوں کو فارغ کرنے کے بعد میں نے فیصلہ کیا کہ میرے پاس اِس سلسلہ میں جو