خطبات محمود (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 619 of 778

خطبات محمود (جلد 25) — Page 619

1944ء 619 خطبات محمود ہوں۔ جب تک ڈاکٹر اور وکیل اپنے آپ کو اس رنگ میں منظم نہیں کر لیتے کہ اپنے اپنے حلقہ میں اپنے کام کے لحاظ سے اس قسم کا اثر و رسوخ پیدا کریں جو نہ صرف اُن کے لیے مفید ہو بلکہ احمدیت کی مضبوطی کا بھی موجب ہو اُس وقت تک غیروں میں ہماری تبلیغ کبھی کامیاب اور وسیع نہیں ہو سکتی۔ ایک تبلیغ عقلی اور علمی ہے اور ایک تبلیغ یہ ہے کہ عقلی دلائل کو عمل میں لا کر تبلیغ کی جائے۔ جب تک ہم علمی اور عملی دونوں کو ملا کر تبلیغ نہ کریں اُس وقت تک ہم کامیاب نہیں ہو سکتے۔ اس کے متعلق پوری تفصیل میں اِنْشَاءَ اللہ آئندہ خطبہ میں بیان کروں گا۔ فی الحال میں نے جماعت کے ان لوگوں کو اس طرف توجہ دلائی ہے ہے تا کہ آنے والے کام کے لیے اپنے آپ کو آمادہ کر لیں، اپنے ایمانوں کو پختہ کر لیں اور اپنے کمزوروں کو چست کر لیں۔ پس وقف جائیداد کے حصہ کو مضبوط بنایا جائے تاکہ ضرورت کے وقت کارکنوں کو تسلی ہو کہ دشمن اگر ہمیں پیچھے دھکیل دے گا تو ہمارے پیچھے ایک خندق اور ایک مضبوط مورچہ موجود ہے۔ اُس پر جاکر ہم پھر دشمن کا مقابلہ کر سکتے ہیں۔ اس وقت اس تحریک کے صرف یہ معنی ہیں کہ جب ہمارے سارے ذرائع ختم ہو جائیں تو اُس وقت اسلام کی ضرورت کے لیے مطالبہ کرنے پر کسی اشتباہ یا دغدغہ 4 کا سوال باقی نہ رہے بلکہ اس وقت ہمارے پاس " وقف جائیداد" کا سہارا موجود ہو اور ہم وقف کرنے والوں سے مطالبہ کر سکیں کہ آپ کا وعدہ ہے کہ یہ جائیداد اسلام کی ضرورت کے لیے وقف ہے آج اسلام کو اس کی ضرورت ہے اور اِس ضرورت کو پورا کرنے کے لیے ہم آپ سے اس کا مطالبہ کرتے ہیں۔ آپ اس میں سے ہمیں اتنا حصہ دے دیں۔ چونکہ ہر مومن جب وعدہ کرتا ہے تو اُسے پورا کرتا ہے۔ اِس لیے ہم یقین رکھیں گے کہ وہ اپنا وعدہ پورا کرے گا اور اسلام کی ضرورت پوری ہو جائے گی۔ میں نے اندازہ اندازہ لگایا ہے کہ ایک کروڑ روپیہ کی جائیدادیں قادیان میں ہی وقف ہو سکتی ہیں۔ ایک کروڑ نہ سہی پچاس ساٹھ لاکھ روپے کی جائیدادیں تو ضرور قادیان میں وقف ہو سکتی ہیں۔ پس اگر ساری جماعت اس کی اہمیت کو سمجھے تو " وقف جائیداد" کا اتنا بڑا فنڈ قائم ہو سکتا ہے جو بغیر فوری بوجھ کے جماعت کو مضبوط کر دے۔ اور یہ فنڈ اسلام کے مجاہدین کے لیے تسلی کا موجب