خطبات محمود (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 610 of 778

خطبات محمود (جلد 25) — Page 610

1944ء 610 خطبات محمود صورت میں ہے بلکہ یہ تمام ریز رو فنڈ جائیداد کی صورت میں ہی ہے۔ پس یہ فنڈ اس حد تک تعاون کر سکتا ہے کہ دفتری اور مرکزی کام کا بوجھ اٹھا سکے اور یہ بوجھ جماعت پر نہ پڑے۔ لیکن مبلغین کی دوسری تمام ضروریات کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ ممکن ہے تحریک جدید کے آئندہ دوروں کے ذریعہ یہ فنڈ اس حد تک بھی ہو جائے کہ تبلیغ کے لیے لٹریچر مہیا کرنے اور مبلغوں کے اخراجات کی برداشت کر سکے مگر اس وقت تک جو ریز رو فنڈ قائم ہو رہا ہے وہ اس کی برداشت نہیں کر سکتا۔ البتہ اس کے ذریعہ غیر ممالک میں تبلیغ کی ابتدا کی جاسکتی ہے۔ وسیع پیمانہ پر تبلیغ کے لیے بھاری فنڈ کی ضرورت ہے جو مبلغین کی تبلیغی ضروریات پورا کر سکے اور کتب رسالے وغیرہ کثرت سے لٹریچر شائع کرنے کا بوجھ اٹھا سکے۔ پچھلے جمعہ میں نے جو خطبہ دیا تھا اُس میں میں نے جماعت کے سامنے ایک سکیم یہ پیش کی تھی کہ ہمیں فوری طور پر آٹھ زبانوں میں قرآن مجید کے تراجم کی ضرورت ہے اور میں نے بتایا تھا کہ خدا کے فضل سے یہ کام شروع ہو چکا ہے۔ انگریزی ترجمہ تو مکمل ہو گیا ہے جو دو جلدوں میں اِنْشَاءَ اللهُ تَعَالٰی شائع ہو گا۔ پہلی جلد چھپ رہی ہے جس کے مجلس شورای تک شائع کر دینے کا پریس والوں نے وعدہ کیا ہے۔ دوسری جلد کے تفسیری نوٹوں کی میں اپنی ہدایات کے مطابق اصلاح کرا رہا ہوں۔ وہ بھی اِنْشَاء الله جلدی مکمل ہو جائے گی۔ باقی سات اور زبانوں میں تراجم کی ضرورت ہے۔ اور میں نے بتایا تھا کہ ان ساتوں زبانوں میں تراجم شروع ہو چکے ہیں۔ یعنی روسی، جرمن، فرانسیسی ، اطالین، ڈچ، پرتگیزی اور سپینش زبانوں میں۔ ہمیں یقین دلایا گیا ہے کہ یہ تراجم غالباً جون یا جولائی 1945ء تک مکمل ہو جائیں گے۔ اس کے بعد کچھ وقت نظر ثانی پر بھی لگے گا۔ اِس لیے جنگ کے خاتمہ تک تراجم إنْشَاء الله بالکل تیار ہو جائیں گے۔ پھر چھپوائی پر بھی کچھ وقت لگے گا۔ میں نے تراجم کے خرچ کا اندازہ بتایا تھا کہ فی ترجمہ اگر چھ ہزار روپیہ اوسط لگا لیں تو سات تراجم کے لیے بیالیس ہزار روپیہ کا اندازہ ہے۔ اِس بارہ میں یاد رکھنا چاہیے کہ تراجم کے کرنے کا وعدہ سات جماعتوں یا افراد کی طرف سے آچکا ہے (1) میری طرف سے (2، 3) لجنہ اماء اللہ کی طرف سے (4 ، 5) قادیان و کارکنان صدر انجمن کی طرف سے (6) سر محمد ظفر اللہ خان صاحب