خطبات محمود (جلد 25) — Page 601
1944ء 601 خطبات محمود سات زبانیں ہیں۔ میں یہ اعلان کر دیتا ہوں کہ اپنی طرف سے اور اپنے بیوی بچوں کی طرف سے ایک زبان کے ترجمہ کی رقم میں ادا کروں گا۔ باقی چھ ترجمے رہ جاتے ہیں۔ ان چھ میں سے ایک ترجمہ کے لیے میں نے تجویز کیا ہے کہ سارے ہندوستان کی لجنہ مل کر ایک ترجمہ کا خرچ ادا کرے اور یہ ترجمہ جرمن زبان کا ہو۔ کیونکہ جرمنی میں مسجد کی تعمیر کا ارادہ بھی لجنہ ہی نے کیا تھا۔ باقی رہ گئیں پانچ زبانیں۔ میں سمجھتا ہوں خدا کے فضل سے قادیان کی آبادی اتنی ہے کہ یہاں کی جماعت آسانی سے ایک ترجمہ کا خرچ ادا کر سکتی ہے۔ یہاں کی جماعت ہمیشہ اخلاص دکھانے میں آگے قدم رکھا کرتی ہے۔ قادیان میں مسجد مبارک کی توسیع کے لیے ایک دن میں چوبیس ہزار روپیہ جمع ہو گیا تھا۔ اس لیے چھ ہزار روپیہ جمع کرنا ان کے لیے کوئی مشکل نا کام نہیں۔ پس میں ایک ترجمہ کی رقم قادیان کی جماعت کے ذمہ لگاتا ہوں۔ باقی چار رہ گئے۔ میرے نزدیک باقی چار ترجموں کی رقم چار شہروں کی جماعتیں یا افراد اپنے ذمہ لے لیں ۔ میں ان جماعتوں کے نام نہیں لیتا بلکہ جماعتوں پر چھوڑتا ہوں کہ وہ خود آگے بڑھیں۔ جو فرد اکیلا ایک ترجمہ کی رقم اٹھانا چاہے وہ اکیلا اٹھالے۔ جو چند دوستوں کے ساتھ مل کر یہ بوجھ اٹھانا چاہتا ہو وہ ایسا کر لے۔ جو جماعت مل کر ایک ترجمہ کی رقم دینا چاہے وہ جماعت اس کا وعدہ کر لے۔ جو صوبہ ایک ترجمہ کی رقم دینا چاہے وہ صوبہ اس کا وعدہ کر لے۔ میں اگر چاہتا تو سہولت سے بعض جماعتوں کے نام لے سکتا تھا مگر میں نہیں چاہتا کہ جماعتوں کا یا افراد کا ثواب ضائع * جمعہ کی نماز سے فارغ ہونے کے بعد حضور نے اعلان فرمایا کہ نماز شروع کرتے وقت خدا تعالیٰ نے میرے دل میں ڈالا کہ چونکہ پہلے مسیح کا خلیفہ کہلانے والا اٹلی میں رہتا ہے۔ اِس مناسبت سے قرآن مجید کا جو ترجمہ اطالوی زبان میں شائع ہو وہ مسیح محمدی کے خلیفہ کی طرف سے ہونا چاہیے۔ اس لیے میں یہ اعلان کرتا ہوں کہ اطالین زبان میں قرآن مجید کے ترجمہ کا خرچ میں ادا کروں گا۔ ☆ ☆☆ خطبہ کے بعد ایک ترجمہ کا خرچ چودھری سر محمد ظفر اللہ خان صاحب اور ان کے چند اور دوستوں نے اپنے ذمہ لیا۔ اس طرح صرف تین تراجم باقی رہ گئے ہیں۔ ہیں