خطبات محمود (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 588 of 778

خطبات محمود (جلد 25) — Page 588

خطبات محمود 588 $1944 ہولناکیوں سے دو چار ہونا پڑے گا۔پھر انہیں لوگوں کے سامنے لیکچر دینے پڑیں گے کہ جاؤ اور میدانِ جنگ میں اپنی جانیں قربان کرو۔جاؤ اور اپنے آپ کو قوم اور ملک کی حفاظت کے لیے فنا کر دو۔آخر وہ کیوں اپنی جانیں قربان کریں اور کیوں اپنے آپ کو قتل کے لیے پیش کریں۔اگر کسی نہ کسی رنگ میں اس قربانی سے محفوظ رہ سکتے ہوں۔بے شک جب مصیبت سر پر آجاتی ہے اس وقت ہر قسم کی قربانی کے لیے انسانوں کو تیار ہونا پڑتا ہے لیکن اگر کسی آنے والی ہے مصیبت کو روکا جاسکے ، اگر حکمت عملی سے کام لے کر تباہی کے دروازہ کو بند کیا جاسکے تو وجہ کیا ہے کہ ابھی ایک نسل اپنی قربانی سے فارغ بھی نہیں ہوئی کہ پھر پھانسی کا پھندا دوسری نسل ہے کے لیے تیار ہو جائے۔پھر گولیاں اُن کے سینہ کو چھلنی کرنے کے لیے تیار ہونی شروع ہو جائیں اور پھر تباہی اور بربادی ان کو اپنا لقمہ بنانے کے لیے منہ کھولے کھڑی ہو۔پس اگر اس میں تباہی کو روکا جاسکتا ہو تو ہمارے لیے اس کا رو کنا نہایت ضروری ہے تاکہ ہماری آئندہ نسل اس مصیبت سے محفوظ رہے اور اسے اپنی جانوں کی قربانی نہ کرنی پڑے۔مگر یہ کام ایسا ہے جس کو یہ سرانجام دینے کی ہم میں طاقت نہیں۔ہم دوسروں کو صرف نصیحت کر سکتے ہیں اور یا پھر اللہ تعالیٰ سے ہم دعا کر سکتے ہیں کہ وہ اپنے فضل سے فاتحین کی آنکھیں کھولے، ان کے دماغوں کو روشنی بخشے ، ان کے دلوں کو ہر قسم کے بغض اور کینہ سے پاک کرے اور ان کو توفیق عطا فرمائے کہ وہ پھر کسی تیسری جنگ کی بنیاد اپنے ہاتھوں نہ رکھ دیں۔تا ایسا نہ ہو کہ ہیں پچیس سال کے بعد پھر قومیں ایک دوسری سے بر سر پیکار ہوں اور پھر دنیا ہلاکت کے گڑھے میں گر جائے۔جس طرح پہلی جنگ سے اس دوسری جنگ میں بہت زیادہ خونریزی ہوئی ہے۔اسی طرح یہ ایک یقینی بات ہے کہ اگر اس جنگ کے بعد تیسری جنگ ہوئی تو وہ اِس دوسری جنگ سے بہت زیادہ مخطر ناک ہو گی۔یہ خیال بھی کسی قوم کے افراد کو اپنے دلوں میں نہیں لانا چاہیے کہ جب ہم لوگوں سے تو پیں چھین لیں گے، تلواریں چھین لیں گے ، ہوائی جہاز چھین لیں گے ، ہم چھین لیں گے، اسی طرح ان کی فیکٹریوں اور کار خانوں وغیرہ پر قبضہ کر لیں گے تو اس کے بعد لڑائی کے لیے ان کے پاس کونسی چیز باقی رہ جائے گی۔کیونکہ ایجادات کا سلسلہ دنیا میں جاری ہے اور اس وجہ ہے