خطبات محمود (جلد 25) — Page 576
خطبات محمود او 576 1944ء درد کی وجہ سے وہ کراہ رہا ہوتا ہے۔ اسے کسی پہلو قرار نہیں آتا۔ وہ بار بار کروٹیں بدلتا اور شدت درد کی وجہ سے چیخ رہا ہوتا ہے۔ اگر اُسے دیکھ کر کوئی شخص یہ خیال کرے کہ اُس کی اصل بیماری یہ درد ہی ہے تو وہ غلطی کا مر تکب سمجھا جائے گا۔ اس لیے کہ در داصل بیماری نہیں بلکہ درد کسی جگہ خون کے اجتماع کا نام ہے یا اعصاب پر بوجھ پڑ جانے کا نام ہے یا قوتِ جسمانی کا نظام بگڑ کر اعصاب کو کسی تکلیف کے پہنچ جانے کا نام ہے۔ اور درد ایک علامت ہے جو کسی ! ایسی بیماری پر دلالت کرتی ہے جو درد کے پیچھے موجود ہوتی ہے۔ جب تک اصل بیماری دور کرنے کی کوشش نہ کی جائے گی محض درد کو فرو کرنے کی کوشش بالکل عبث اور فضول ہوگی ۔ مثلاً اگر کسی شخص کے پیٹ میں کوئی شدہ پھنس گیا ہے اور اس وجہ سے اُسے درد ہو رہا ہے تو اُس وقت اصل بیماری درد کو نہیں سمجھا جائے گا بلکہ اصل بیماری یہ ہوگی کہ شدہ پھنسا ہوا ہے۔ ایسی حالت میں اُس درد کا صحیح ترین علاج سوائے اس کے اور کچھ نہیں ہو گا کہ اُس شدہ کو نکالنے کی کوشش کی جائے۔ جب تک اُس شدہ کو دور کرنے کی کوشش نہیں کی جائے گی اُس وقت تک خواہ کسی اور طریق سے درد کو دبانے کی کوشش کی جائے بیماری کا مادہ جسم میں موجود رہے گا۔ پھر وہ عارضی سبب کے دور ہونے پر نمودار ہو جائے گا۔ اسی طرح جب انسانوں میں تنافر اور تباغض اور کینہ اور غصہ اور جوش پیدا ہو گیا ہو تو جب تک طبیعتوں میں یہ بغض اور کینہ اور حسد اور ایک دوسرے کے خلاف غیظ و غضب کا مادہ موجود رہے گا اُس وقت تک جنگ کا امکان بہر صورت رہے گا۔ اور اگر جنگ کو کسی نہ کسی طرح دبا دیا گیا تب بھی بیماری کا اصل مادہ موجود رہے گا اور اس کے متعلق ہر وقت یہ خطرہ ہو گا کہ عارضی روکوں کے دور ہونے پر پھر چھوٹ کر ظاہر ہو جائے اور دنیا کو پھر تباہی اور بربادی کے گڑھے میں دھکیل دے۔ پس جب تک اس جنگ کی بنیادی وجوہ کو دور نہیں کیا جاتا ، جب تک اُس بغض اور کینہ اور غصہ کو دور نہیں کیا جاتا جو اندر ہی اندر قوموں کے دلوں میں پایا جاتا ہے اُس وقت تک ہتھیار چھین کر یا دباؤ ڈال کر جنگ کو بند کرا دینا محض بیماری کی ایک علامت کو دبانا ہو گا اور یہ ایسا ہی ہو گا جیسے شدت درد سے تڑپنے والے مریض کو افیون کھلا دی جائے۔ اگر ہم کسی ملک پر غلبہ حاصل کر کے اُسے دبا لیتے ہیں، اُس کی تو ہیں چھین لیتے ہیں، اُس کے بم چھین لیتے ہیں، اُس کے ہوائی جہاز