خطبات محمود (جلد 25) — Page 565
1944ء 565 خطبات محمود کامل طور پر توجہ کر سکیں گے۔ اس اندرونی اصلاح اور تنظیم کو مکمل کرنے کے لیے میں نے خدام الاحمدیہ، انصار اللہ اور اطفال الاحمدیہ تین جماعتیں قائم کی ہیں اور یہ تینوں اپنے اُس مقصد میں جو ان کے قیام کا اصل باعث ہے اُسی وقت کامیاب ہو سکتی ہیں جب انصار الله ، خدام الاحمدیہ اور اطفال الاحمد یہ اُس اصل کو اپنے مد نظر رکھیں جو حَيْثُ مَا كُنْتُمْ فَوَلُّوا وُجُوهَكُمْ شَطْرَہ میں بیان کیا گیا ہے کہ ہر شخص اپنے فرض کو سمجھے اور پھر رات اور دن اس فرض کی ادائیگی میں اس طرح مصروف ہو جائے جس طرح ایک پاگل اور مجنون تمام اطراف سے اپنی توجہ کو ہٹا کر صرف ایک بات کے لیے اپنے تمام اوقات کو صرف کر دیتا ہے۔ جب تک رات اور دن انصار اللہ اپنے کام میں نہیں لگے رہتے، جب تک رات اور دن خدام الاحمدیہ اپنے کام میں نہیں لگے رہتے اور جب تک اطفال الاحمد یہ اپنے کام میں نہیں نہیں لگے رہتے اور اپنے مقصد کو پورا کرنے کے لیے تمام اوقات کو صرف نہیں کر دیتے اُس وقت تک ہم اپنی اندرونی تنظیم مکمل نہیں کر سکتے۔ اور جب تک ہم اپنی اندرونی تنظیم کو مکمل نہیں کر لیتے اُس وقت تک ہم بیرونی دنیا کی اصلاح اور اس کی خرابیوں کے ازالہ کی طرف بھی پوری طرح توجہ نہیں کر سکتے۔ یاد رکھو! وہ دن قریب ترین آتے جاتے ہیں جب دنیا کسی نہ کسی فیصلہ پر پہنچنے کی کوشش کرے گی۔ اس وقت فاتح مغربی اقوام کے دماغ اس امر کی طرف مائل ہو رہے ہیں کہ وہ جنگ کے بعد مفتوح قوموں کو بالکل کچل کر رکھ دیں اور ان کو ابتدائی انسانی حقوق سے بھی ے محروم کر دیں۔ گویا پرانے زمانہ میں جس غلامی کا دنیا میں رواج تھا اُسی غلامی کو بلکہ اُس سے بھی بدتر غلامی کو وہ اب پھر دنیا میں رائج کرنا چاہتی ہیں۔ اور ان اقوام میں سے بعض سرکردہ لوگ اس امر کا اظہار کر رہے ہیں کہ وہ پرانے زمانہ کے غلاموں سے بھی بدترین سلوک جرمنی اور جاپان کے ساتھ کریں۔ دوسرے الفاظ میں یوں سمجھ لو کہ جیسے ابتدائی ایام میں آرین اقوام نے ہندوستان کی دیگر اقوام سے سلوک کیا تھا اور اُنہوں نے ان اقوام کے لیے بعض خاص پیشے مقرر کر دیے تھے اور کہہ دیا تھا کہ وہ ان پیشوں کے علاوہ اپنی معاش کے لیے کوئی اور ذریعہ اختیار نہیں کر سکتے اور نہ ترقی کے لیے کوئی تدبیر اختیار کر سکتے ہیں۔ اسی طرح آج انگلستان