خطبات محمود (جلد 25) — Page 557
1944ء 557 خطبات محمود ---------------------------- جیسے آزاد ملکوں کو جو کسی شریعت کے پابند نہیں ہیں اسلام کا حلقہ بگوش بنانا اور وہاں کے رہنے والوں کو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی غلامی میں لانا کوئی آسان کام نہیں۔ یورپ اور امریکہ میں بے شک عملاً آزادی ہے مگر عقیدہ اور ذہنا وہ آسمانی قانون کو قبول کرنے کے لیے تیار رہتے ہیں۔ لیکن چین اور جاپان کسی آسمانی قانون کو نہیں مانتے۔ اس لیے گو ان میں اتنی آزادی نہیں جتنی یورپ اور امریکہ میں پائی جاتی ہے مگر پھر بھی ان کے دماغ آسمانی قانون کو ماننے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ اس کے مقابلہ میں یورپ اور امریکہ آسمانی قانون ماننے کے لیے تو تیار ہیں لیکن اپنی عادتوں اور طرز رہائش وغیرہ کی وجہ سے وہ آسمانی قانون کو قبول کرنے سے گریز کرتے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ اگر ہم نے آسمانی باتوں کو مانا تو ہمیں اپنے تمدن اور اپنے طریق رہائش کو یکسر بھولنا پڑے گا اور یہ چیز بظاہر حالات ان کے لیے نا قابلِ برداشت ہے۔ ان سارے ملکوں کو اور پھر ان مسلمانوں کو جو دنیا میں بالکل گرے ہوئے ہیں اور جن کی کہیں بھی کوئی حیثیت تسلیم نہیں کی جاتی اسلام کا تابع فرمان بنانا ہمارا اولین فرض ہے۔ ہمارا دعوی ہے کہ ہم مسلمانوں کو نئے سرے سے مسلمان بنائیں گے ۔ ہمارا دعوی ہے کہ ہم دنیا میں نئے سرے سے قرآن کی حکومت قائم کریں گے۔ ہمارا دعوی ہے کہ ہم دنیا کے تمام مذاہب اور تمام حکومتوں کو اخلاقی طور پر مٹا کر خدا کی بادشاہت دنیا میں جاری کریں گے اور اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ہمارا یہ دعوی ایسا ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ کے الہامات اور ایمان سے علیحدہ ہو کر ہم خود بھی اس پر غور کرنے لگیں اور یہ فیصلہ کرنے بیٹھیں کہ ہم اِس دعوی میں عقل سے کام لے رہے ہیں یا جنون اور پاگل پن کی کیفیت ہم پر طاری ہے تو ہمیں یہی فیصلہ کرنا پڑے گا کہ ہم پاگل اور مجنون ہیں۔ کیونکہ ہم وہ دعوی کر رہے ہیں جن کے پورا ہونے کی بظاہر حالات کوئی صورت نہیں۔ لیکن ہمارے اِس دعوای کی بنیاد محض اس بات پر نہیں کہ چونکہ ہم ایسا کہتے ہیں اِس لیے دنیا میں یہ تغیر پیدا ہو کر رہے گا بلکہ ہمارے دعوی کی دلیل یہ ہے کہ ہمیں خدا تعالیٰ نے ایسا کہا ہے۔ اور جس کام کے کرنے کا خدا تعالیٰ وعدہ کرے وہ کام دنیا میں ہو کر رہتا ہے۔ حکومتیں مٹ جاتی ہیں، طاقتیں فنا ہو جاتی ہیں ، روکیں کٹ جاتی ہیں لیکن وہ بات سچی ہو کر رہتی ہے جس کے کرنے کا خدا تعالیٰ نے وعدہ کیا ہو۔ پس جس طرح کسی تاگے سے کوئی چیز