خطبات محمود (جلد 25) — Page 556
خطبات محمود 556 $1944 قبلہ کی طرف ہمیشہ اپنا منہ رکھا کرو تو مِنْ حَيْثُ خَرَجْتَ کے الفاظ آیت میں نہ ہوتے بلکہ ان الفاظ کی بجائے یہ الفاظ ہوتے کہ تم جہاں کہیں ہو قبلہ کی طرف اپنا منہ رکھو۔قبلہ کی طرف منہ کرنے کے لیے جہاں کہیں کے الفاظ ہونے چاہئیں تھے نہ یہ کہ تم جہاں سے بھی نکلو ہے قبلہ کی طرف اپنا منہ پھیر دو۔کیا لوگ کہیں سے نکلنے کے وقت نمازیں پڑھا کرتے ہیں؟ نکلنے کے وقت تو لوگ چلا کرتے ہیں نمازیں نہیں پڑھا کرتے۔پس اس آیت کا نمازوں کی ادائیگی ہے کے ساتھ کوئی تعلق نہیں۔بلکہ اس آیت کا صرف یہ مطلب ہے کہ تم جہاں سے بھی نکلو تمہارے سامنے صرف ایک ہی مقصد ہونا چاہیے کہ تم نے مکہ فتح کرنا اور وہاں اسلام کو قائم کر کے سارے عرب کو اپنے زیر اثر لانا ہے۔ان معنوں کے لحاظ سے مِنْ حَيْثُ خَرَجْتَ فَوَلِ وَجْهَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَحَيْثُ مَا كُنْتُمْ فَوَلُّوا وُجُوهَكُمْ شَطْرَہ کا نماز کے ساتھ کوئی جوڑ ثابت نہیں ہوتا۔نماز تو انسان کھڑا ہو کر پڑھتا ہے۔اس کا انسان کے خروج کے ساتھ کوئی تعلق نہیں۔پس اس آیت کے معنے یہی ہیں کہ تم کوئی کام کرو، کسی طرف سے بھی نکلو، چاہے تم اس مقام سے نکلو جس کا منہ مشرق کی طرف ہو ، چاہے تم اس مقام سے نکلو جس کا منہ مغرب کی طرف ہو، چاہے تم اس مقام سے نکلو جس کا منہ شمال کی طرف ہو اور چاہے تم اس مہین مقام سے نکلو جس کا منہ جنوب کی طرف ہو بہر حال تمہارا منہ مکہ کی طرف ہونا چاہیے۔یعنی تمہاری توجہ اور تمہارا خیال اور تمہارا ذہن صرف اسی بات کی طرف رہنا چاہیے کہ تم نے مکہ کو فتح کرنا ہے۔وجوہ کے معنے تو جہات کے بھی ہوتے ہیں۔پس معنے یہ ہیں کہ تمہارا ایک ہی مقصد ہونا چاہیے کہ تم نے خانہ کعبہ کو فتح کر کے اسے اسلام کا مرکز بنانا ہے۔کیونکہ جب تک مکہ میں اسلام پھیل نہیں جاتا، جب تک مکہ مسلمانوں کے ماتحت نہیں آجاتا اُس وقت تک باقی تمام عرب مسلمان نہیں ہو سکتا۔ہماری جماعت کے لیے بھی اس اصول کے ماتحت چلنا نہایت ضروری ہے اور اگر جماعت کے افراد اپنے کاموں میں اس کو نظر انداز کر دیتے ہیں تو وہ اپنی ترقی کی ساعت کو بہت پیچھے ڈال دیتے ہیں۔میں نے بتایا تھا کہ جس کام کے لیے ہم کھڑے ہوئے ہیں وہ دنیا کے تمام کاموں سے ایک ممتاز حیثیت رکھتا ہے۔یورپ اور انگلستان اور امریکہ جیسے عیاش ملکوں اور چین اور جاپان ہے