خطبات محمود (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 555 of 778

خطبات محمود (جلد 25) — Page 555

1944ء 555 خطبات محمود پس باوجود ایک ڈھن رکھنے کے یہ لوگ بعض اور مقاصد سے بھی دلچسپی رکھتے تھے اور اپنے اوقات ان میں صرف کیا کرتے تھے لیکن محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ہم دیکھتے ہیں تو ہمیں نظر آتا ہے کہ آپ اپنی بیویوں سے جب بات کرتے ہیں تو یہی ہوتی ہے کہ اسلام دنیا میں کس طرح پھیل سکتا ہے۔ بچوں سے بات کرتے ہیں تو اُس کا بھی ایک ہی مقصد ہوتا ہے کہ اسلام کسی طرح دنیا میں قائم ہو ، ہمسائیوں سے ملتے ہیں تو اُس کی تہہ میں بھی ایک ہی غرض کام کر رہی ہوتی ہے کہ اسلام کی تعلیم لوگوں کے قلوب میں راسخ ہو۔ اسی طرح قضاء کا کام کرتے ہیں تو اُس میں بھی اسلام کا غلبہ مد نظر ہوتا ہے۔ جرنیلی کا فرض سر انجام دیتے ہیں تو اُس کی وقت بھی یہی بات پیش نظر رہتی ہے کہ اسلام دنیا پر غالب آئے اور کفر کا خاتمہ ہو۔ لڑائی لڑائی کرتے ہیں تو اُس میں بھی کوئی ذاتی غرض کام نہیں کر رہی ہوتی بلکہ اسلام کا غلبہ ، دین کا قیام اور خدا تعالیٰ کے احکام کا اجراء ہر وقت سامنے ہوتا ہے۔ غرض کوئی کام ہو، کوئی بات ہو، کوئی شغل ہو صرف ایک ہی چیز رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے رہتی تھی یعنی اسلام کا غلبہ اور دین کا قیام۔ اور یہی وہ چیز ہے جس کو لوگ جنون کہتے ہیں۔ اسی کو جب وہ کسی ادنیٰ مقصد کے لیے ہو اور لغو ہو طبی اصطلاح میں مانو مینیا کہتے ہیں اور ایسے ہی شخص کو لوگ پاگل اور مجنون کہا کرتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ جب تک غیر معمولی کاموں کے لیے ہر انسان کے اندر وہ حالت نہ پیدا ہو جائے جسے بعض حالتوں میں طب مانو مینیا کہتی، جب تک وہ اور تمام مقاصد کو بُھول نہ جائے، جب تک اُس کے اندر ہر وقت ایک خلش اور بے تابی نہ پائی جائے اور جب تک ان غیر معمولی کاموں کے لیے اُس کے اندر جنون کا سارنگ پیدا نہ ہو جائے اُس وقت تک اُن کاموں میں کبھی کامیابی نہیں ہو سکتی۔ پس جس چیز کی طرف میں اپنے سابق خطبہ میں توجہ دلا چکا ہوں اُسی کی طرف قرآن کریم نے بھی ان الفاظ میں توجہ دلائی ہے کہ حَيْثُ مَا كُنْتُمْ فَوَلُّوا وُجُوهَكُمْ شَطْرَةً تم باقی تمام مقاصد کو بھول جاؤ اور صرف اس مقصد کو اپنے سامنے رکھو کہ ہم نے اسلام کے لیے دنیا کو فتح کرنا ہے۔ لوگ اس آیت کے معنے یہ سمجھتے ہیں کہ تم جہاں سے بھی نکلو قبلہ کی طرف اپنا منہ کرو۔ حالانکہ اگر اس آیت کے یہ معنے ہوتے کہ