خطبات محمود (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 550 of 778

خطبات محمود (جلد 25) — Page 550

1944ء 550 34 خطبات محمود جنگ کے بعد دنیا پھر ایک ظلم کا بیج بونے والی ہے فرموده 29 ستمبر 1944ء بمقام ڈلہوزی) تشہد، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: " پچھلے جمعہ میں میں نے اس مضمون پر خطبہ بیان کیا تھا کہ ہر کام کے لیے ایک مناسب حال طاقت اور قوت کی ضرورت ہوتی ہے اور جب تک اس کے مناسب حال طاقت اور قوت استعمال نہ کی جائے اُس وقت تک اُس کام میں کامیابی بالکل محال اور نا ممکن ہوتی ہے۔ اور یہ کہ اگر کسی قوم کو خدا تعالیٰ کی طرف سے یہ وعدہ دیا جائے کہ باوجود غیر معمولی حالت کے جن میں عام طور پر کسی شخص کا اپنی کامیابی کے متعلق دعوی کرنا جنون سمجھا جاتا ہے، اُس قوم کو کامیابی حاصل ہو جائے گی تو اللہ تعالیٰ اُس قوم سے یہ ضرور امید رکھتا ہے کہ وہ اتنی محنت، اتنے جوش اور اتنی قربانی سے کام کرے کہ دنیا اُسے پاگل کہنے لگ جائے۔ اور میں نے بتایا تھا کہ ہمیں دنیا ایک لحاظ سے پاگل کہتی بھی ہے۔ یعنی اس لحاظ سے کہ ہم ایک ایسا کام کرنے کا دعوی کرتے ہیں جس کام میں کامیابی بظاہر حالات بالکل نا ممکن ہے۔ اِس لیے لوگ کہتے ہیں کہ یہ قوم مجنون ہے۔ لیکن اس کے علاوہ ایک دوسرا طریق بھی ہوتا ہے جس کے ماتحت انبیاء کے زمانہ میں اُن پر ایمان لانے والے لوگ ہمیشہ مجنون کہلاتے رہے ہیں اور وہ طریق یہ یہ ہے کہ وہ