خطبات محمود (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 547 of 778

خطبات محمود (جلد 25) — Page 547

خطبات محمود 547 $1944 اِس قدر جوش کام میں دکھائے جو عقل کے خلاف ہو۔ہم میں پاگلوں والی ایک وجہ تو پائی جاتی ہے مگر دوسری نہیں پائی جاتی۔ہم دعوی تو ایسا کرتے ہیں جو دنیا والوں کی عقل سے بالا ہے اور اس قسم کا دعوای عقلمند نہیں کر سکتا۔مگر اس کے مقابلہ میں اتنی طاقت خرچ نہیں کرتے اور اتنا زور نہیں لگاتے جو پاگل لگایا کرتے ہیں۔پس ہمیں در حقیقت اسی چیز کی ضرورت ہے اور اگر ہم یہ کر لیں تو خدا تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ باقی کمی ہم اپنی طرف سے پوری کر دیں گے۔مجھے کشمیر کا ایک نظارہ یاد ہے۔کشمیر میں ایک جھیل ڈل ہے جو قریب دو میل لمبی اور میل بھر چوڑی ہے۔اس میں کشمیری لوگ کیلیاں لے کر ان پر مٹی ڈال دیتے ہیں اور اُن پر سبزیاں بوتے ہیں جن کو جھیل کے پانی کی نمی پہنچتی رہتی ہے اور اوپر سے پانی دینے کی ضرورت نہیں ہوتی۔سرینگر کو یہیں سے سبزیاں جاتی ہیں۔صبح کے وقت کشتیاں بھر کے لے جاتے ہیں۔ہم ڈل کی سیر کے لیے گئے۔ڈل میں ایک سوراخ کر کے اُسے اُس نہر سے ملا دیا گیا ہے جو دریائے جہلم میں سے نکلتی ہے اور سرینگر کے گرد چکر لگاتی ہے۔وہاں ہم کھڑے تھے کہ اتنے میں سبزیوں والی ایک کشتی شہر کی طرف سے آئی جو سبزیاں بیچ کر واپس آ رہی تھی۔بعض دفعہ جب دریائے جہلم میں طغیانی ہو تو شہر میں زیادہ پانی چھوڑ دیتے ہیں جس کی وجہ سے ہے نہر کا پانی ڈل کے پانی سے اونچا ہو جاتا ہے۔ایسے موقع پر ڈل سے نہر کی طرف کشتی مشکل سے لے جائی جا سکتی ہے۔اس کے برخلاف بھی ایسا ہوتا ہے کہ نہر کا پانی کم ہو جانے پر نیچا ہو جاتا ہے اور ڈل کا پانی اونچا ہو جاتا ہے۔اُس وقت نہر کی طرف سے ڈل کی طرف کشتی لے جانی مشکل ہو جاتی ہے۔اس وقت ہی حالت تھی یعنی ڈل کا پانی اونچا تھا اور نہر کا پانی نیچا تھا۔اس وجہ سے ڈل کی طرف کشتی لے جانا بہت مشکل تھا۔کشتی والوں نے زور لگا یا مگر کشتی ڈل میں چڑھ نہ سکی۔کشمیری لوگ زیادہ تر دو چیزوں کو مانتے ہیں۔ایک مقامی پیر ہیں یعنی شاہ زین الدین صاحب اور دوسرے سید عبد القادر صاحب جیلانی رحمۃ اللہ علیہ۔تیسرے وہ ضرورت کے موقع پر کبھی کبھی خدا کو بھی یاد کر لیتے ہیں۔مجھے اب یاد نہیں کہ وہ شاہ زین الدین صاحب کا ہے کیا نام لے کر نعرہ لگاتے ہیں مگر سید عبد القادر جیلانی رحمتہ اللہ علیہ کا " یا پیر دستگیر " کہہ کر نعرہ لگاتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کا ذکر لا يلة يلا اللہ کہہ کر کرتے ہیں۔چونکہ وہ ہمزہ ادا نہیں کر سکتے ہے