خطبات محمود (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 545 of 778

خطبات محمود (جلد 25) — Page 545

خطبات محمود 545 $1944 کر سکتے ہیں۔جب چودھری صاحب نے کمانڈر انچیف کی یہ بات میرے پاس آکر بیان کی تو میں نے کہا اُس نے ٹھیک کہا ہے اور اُس کی یہ بات بالکل معقول ہے کیونکہ جب بہر حال حکومت نے ملک کی حفاظت کرنی ہے تو پھر ہمارا یہ مطالبہ کرنا کہ ہماری اتنی دلداری کرو کہ اگر چہ دوسرے خفا ہو کر چلے جائیں پھر بھی تم ہمارا خیال رکھو یہ فضول مطالبہ ہے۔پس ہماری یہ حالت ہے کہ ہمارے اپنے ملک میں بھی ہماری بات کو کوئی وقعت نہیں دی جاتی۔حکومت جو تمام رعایا سے یکساں سلوک کا دعوی کرتی ہے وہ بھی بعض دفعہ افسروں کی مخالفت کی وجہ سے اور بسا اوقات اِس وجہ سے ہمارا ساتھ دینے سے انکار کر دیتی ہے کہ ہمارا ساتھ دینا حکومت کے لیے ضعف کا موجب ہو گا اور وہ نہیں چاہتی کہ جماعت کی بات کو مان کر ملک کی اکثریت کو ناراض کرے۔پس جو ایسی کمزور قوم ہو اور اتنے بڑے کام کے لیے کھڑی ہو کہ اگر امریکہ اور روس جیسی طاقتوں کے سپر د وہ کام کیا جاتا تب بھی وہ کام ان کی طاقت سے بالا نظر آتا۔گو وہ پاگل پن نہ کہلاتا کیونکہ اُن کے پاس دنیا کی طاقت ہے تو اس قوم کو دنیا پاگل ہے نہ کہے تو اور کیا کہے۔پس اسی وجہ سے لوگ ہمیں پاگل کہتے ہیں۔ہمیں کوئی شک نہیں کہ ایک ہے گر وہ مخالفوں کا ہمیں منتقلی، بدعتی اور فتنہ پرداز کہتا ہے۔مگر ایک گروہ جو تعلیم یافتہ ہے وہ ہمیں پاگل ہی سمجھتا ہے کہ اتنے بڑے کام کا دعوی کرتے ہیں جو ان کی طاقت بالکل باہر ہے۔ނ پس ایسے حالات میں اس مقصد کے حصول کے لیے کہ جس کے لیے ہم کھڑے ہوئے ہیں جدوجہد پاگلوں جیسی ہی چاہیے۔کم از کم ہمیں دنیا پر یہ تو ثابت کر دینا چاہیے کہ اگر تم ہمیں پاگل کہتے ہو تو ہم اس کام کے لیے پاگلوں والا زور لگانے کے لیے بھی تیار ہیں۔اگر لوگ ہمارا نام پاگل رکھتے ہیں تو ہمیں اپنی ہر ایک بات اور ہر ایک کام میں ثابت کر دینا چاہیے کہ یہ چلو پاگل تو پاگل ہی سہی۔لیکن دنیا ہمیں پاگل کہے اور ہمارا عمل عقلمندوں والا ہو اور ہم اتنی جد و جہد نہ کریں جتنی کہ ہمارے لیے ضروری ہے۔خواہ وہ جد وجہد کام کے مطابق نہ ہو تو یہ ایک نہایت بے اصول بات ہو گی۔آدھا تیتر اور آدھا بٹیر کبھی کامیابی حاصل نہیں کر سکتا۔اگر کوئی دعوای تو ایسے کام کا کرے جو اُس کی طاقت سے بہت بالا ہو ، اتنا بلند کہ اس دعوی کی بناء