خطبات محمود (جلد 25) — Page 538
خطبات محمود 538 $1944 اسی طرف قرآن کریم نے اشارہ فرمایا ہے کہ ہر چیز کے لیے ایک میزان مقرر ہے یعنی ہر کام کے مناسب حال ایک طاقت مقرر کی گئی ہے۔اسی وجہ سے ہم دیکھتے ہیں کہ عام طور پر جن چیزوں کے اٹھانے یا جن چیزوں کے ہلانے کی عادت ہوتی ہے جب انسان اُن کو اٹھانے یا اُن کو ہلانے کی کوشش کرتا ہے تو اُس کو اُن کے اٹھانے یا ہلانے سے صدمہ نہیں پہنچتا کیونکہ اُس کو اُس چیز کا وزن معلوم ہوتا ہے۔مگر جب کبھی وہ اس کا وزن معلوم کرنے میں غلطی کر جاتا ہے تو اُس کو اُس کے اٹھانے میں صدمہ پہنچتا ہے۔مثلاً ایک شخص کو اندھیرے میں ایک چیز پڑی ہوئی نظر آتی ہے وہ سمجھتا ہے یہ لکڑی کی چیز ہے مگر ہے وہ لوہا۔تو اس چیز کو اٹھاتے ہوئے اُس اٹھانے والے کو اسی قسم کا صدمہ پہنچے گا جس طرح بجلی کی تار کو ہاتھ لگانے سے صدمہ پہنچتا ہے۔پھر بھی وہ چیز ہلے گی نہیں۔بعد میں جب پتہ لگ جائے گا کہ وہ لوہا ہے تو دوسری دفعہ وہ ہے اُس کو اٹھانے میں کامیاب ہو جائے گا کیونکہ اب اُس کا دماغ اُس چیز کو اٹھانے کے لیے اتنی ہی طاقت بھیج دے گا جتنی طاقت کی کہ ضرورت تھی اس لیے دوسری دفعہ وہ اس کو اٹھالے گا۔جب میں کوئی 19 ، 20 سال کا تھا پہلی مرتبہ ڈلہوزی آیا۔پہاڑ تو پہلے بھی دیکھا ہوا تھا۔اس سے پہلے شملہ کیا تھا مگر ڈلہوزی پہلی مرتبہ آیا تھا۔فارگوسن عیسائیوں کا ایک بڑا مشہور ہیں پادری تھا۔سیالکوٹ میں ہزار ہا لوگ اس کی محنت اور کوشش سے عیسائی ہوئے تھے۔ج میں اس سے ملا ہوں اُس وقت اس کی عمر کوئی 75 سال کے قریب تھی۔اس وقت وہ پونا 2 میں مقرر تھا اور تبدیلی آب و ہوا کے لیے یہاں آیا ہوا تھا۔وہ روزانہ ڈلہوزی میں مختلف ف کے دو دو چار چار صفحات کے ٹریکٹ بانٹا کر تا تھا جس کی وجہ سے لوگوں میں ہیجان تھا۔مسلمان یہ سب کچھ دیکھتے تھے مگر سمجھتے تھے کہ اُن میں جواب کی طاقت اور ہمت نہیں ہے۔میں بچہ ہی تھا مگر احمدی تبلیغ کی دھاک مدتوں سے لوگوں کے دلوں پر بیٹھی ہوئی تھی۔اس لیے بعض مسلمان میرے پاس آئے اور مجھے تحریک کی کہ آپ اس پادری سے بات کریں۔میں نے آمادگی کا اظہار کیا۔اُس وقت عیسائی لٹریچر کا مطالعہ تو مجھے نہیں تھا۔وہی باتیں معلوم تھیں جو احمد یہ لٹریچر میں عیسائیوں کے متعلق پڑھی ہوئی تھیں۔وہ 75 سال کا تجربہ کار اور اُس کے مقابلہ میں میں 20 سال کا ناتجربہ کار۔مگر باوجود ناتجربہ کاری کے اتنا میں جانتا تھا کہ