خطبات محمود (جلد 25) — Page 523
1944ء 523 خطبات محمود پڑھتے ہیں۔ اس قسم کے لوگوں سے دین کی خدمت کی کیا امید ہو سکتی ہے۔ ایسا انسان سوتا ہی پیدا ہوتا ہے، سوتا ہی زندگی بسر کرتا ہے اور سوتا ہی مر جاتا ہے اور سلسلہ کو اس سے کوئی بھی فائدہ نہیں پہنچ سکتا۔ وہ سمجھتا ہے کہ شاید صرف نام پیش کر دینے سے ہی عزت مل جائے گی۔ حالانکہ نام پیش کر کے پیچھے ہٹ جانا خدا تعالیٰ کے عذاب کو بلانے کا موجب ہے۔ پس واقفین میں سے ایک طبقہ تو اس قسم کا ہے کہ اُس کو وقف کی حقیقت کا علم نہیں اور دوسرا طبقہ اس قسم کا ہے کہ انہوں نے اخلاص سے اپنا نام پیش کیا ہے لیکن اُن کے حالات ایسے نہیں کہ اُن کا وقف مفید ہو سکے۔ کیونکہ یا تو وہ مفید کاموں پر لگے ہوئے ہیں اور یا اُن کا اس جگہ سے ہٹانا اُن کے لیے اور اُن کے خاندان کے لیے ٹھوکر کا موجب ہو گا۔ اور طاقت و قوت اور عمر کے لحاظ سے اُن کو کام سپرد کرنا ایسا ہی ہے جیسے لنگڑے آدمی کو دوڑنے کے لیے کہا جائے۔ اس دوڑ میں تو ایسے آدمیوں کی ضرورت ہے جن کی دونوں ٹانگیں سلامت ہوں۔ اگر ہم ایسے آدمی کو دوڑنے کا حکم دیں جس کی دونوں ٹانگیں ماری ہوئی ہوں یا ایک ٹانگ ماری ہوئی ہو تو یہ چیز ہماری کم عقلی پر دلالت کرے گی کہ ہم نے صحیح انتخاب نہیں کیا۔ پس اگر اس قسم کے آدمیوں کو نکال دیا جائے تو چار پانچ سو میں سے صرف چالیس پچاس یا ساٹھ ستر واقفین ایسے رہ جاتے ہیں جو تمام شرائط کے مطابق اُتریں گے ۔ لیکن جو کام ہمارے سامنے ہے اُس کے لیے سینکڑوں بلکہ ہزاروں آدمیوں کی ضرورت ہے۔ پس میں جماعت کو توجہ دلاتا ہوں کہ وقف کے لیے ایسے نوجوانوں کو تیار کر لیں کہ ایک تو ان کی عمر تیس سال سے کم ہو اور دوسرے جسم کے لحاظ سے ایسے مضبوط ہوں کہ علم حاصل کر سکتے ہوں۔ تیسرے یہ کہ عربی یا انگریزی کے گریجوایٹ ہوں تا اُن کو جلدی ٹریننگ یا دے کر تیار کیا جاسکے ۔ ہم نے اس سال انٹرنس 2(ENTRANCE) پاس بھی لیے ہیں اور مدرسہ احمد یہ کے ساتویں پاس بھی لیے ہیں۔ کیونکہ فوری ضرورت تھی۔ اب چونکہ تیس چالیس نوجوان پڑھائی کرنے والے ہو گئے ہیں۔ اِس لیے آئندہ وقف کے لیے شرط یہ ہے کہ یا عربی گریجوایٹ ہو (ہمارے نقطہ نگاہ سے عربی گریجوایٹ سے مراد مولوی فاضل نہیں۔