خطبات محمود (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 506 of 778

خطبات محمود (جلد 25) — Page 506

$1944 506 خطبات محمود ہوتے ہیں۔مثلاً ہمارے کلمہ کا پہلا جُزو یہ ہے اَشْهَدُ اَنْ لَّا إِلَهَ إِلَّا اللهُ - اِس کلمہ کی اصل غرض تو یہ ہے کہ خدا کی توحید کو قائم کیا جائے اور خدا سے بندے کو روشناس کرایا جائے۔لیکن اس فقرہ کی بناوٹ اس کے الٹ ہے۔بجائے اللہ سے پہلے روشناس کرانے کے پہلے معبودانِ باطلہ کی نفی کی۔یہ نہیں فرمایا کہ اللہ موجود ہے یا اللہ ایک ہے اور اُس کے سوا اور کوئی معبود نہیں۔مثلاً اَشْهَدُ اَنَّ اللهَ هُوَ الْإِلهُ وَ لا إِلهَ سِوَادُ نہیں فرمایا تا پہلے اللہ کا الہ ہونا ثابت ہو اور بعد میں دوسرے معبودان باطلہ کی نفی کی جائے بلکہ اَشْهَدُ اَنْ لَّا إِلَهَ إِلَّا اللهُ فرمایا۔یعنی میں گواہی دیتا ہوں کہ کوئی معبود نہیں مگر اللہ تعالیٰ معبود ہے۔پس کلمہ کے اِس مجزو میں معبودانِ باطلہ کی نفی پہلے کی گئی ہے اور بعد میں اُس چیز کو رکھا ہے جو اصل مقصود تھی۔جہاں ہم دیکھتے ہیں کہ خدا تعالیٰ کے باقی کلمات سب کے سب پر حکمت ہیں تو اس میں ہے بھی کوئی نہ کوئی حکمت ضرور ہے۔اس حکمت کو سمجھنے کے لیے اگر ہم غور کریں کہ جب بچہ پیدا ہوتا ہے تو اُس کو سب سے پہلے کس چیز سے روشناس کرایا جاتا ہے۔آیا سب سے پہلے اللہ سے روشناس کرایا جاتا ہے یا غیر اللہ سے ؟ تو اس کلمہ کی طبعی ترکیب ہماری سمجھ میں آجاتی ہے۔اللہ تعالیٰ کی ہستی کا علم ایسا ہے جو دوسری چیزوں کے علم اور معرفت کے بعد حاصل ہوتا ہے۔کیونکہ وہ کلی علم ہے۔بعض چیزیں اپنی ذات میں نظر آنے والی ہوتی ہیں۔ان کے دیکھنے میں سے انسان کو ان کا علم ہو جاتا ہے۔مثلاً بچہ کے سامنے اگر انگلی رکھیں تو قطع نظر اس سے کہ وہ ہے اس قسم کی تفصیلات معلوم کرے کہ اُس انگلی کے پیچھے ایک پنجہ ہے اور اُس پنجہ کے پیچھے ایک بازو ہے اور اُس بازو کے پیچھے کندھا ہے۔وہ کندھا گر دن کے واسطہ سے سر سے ملتا ہے اور اُس سر میں ایک دماغ ہے کہ جس کے حکم سے ان چیزوں نے حرکت کی ہے اور پھر یہ انگلی میرے سامنے آگئی ہے۔وہ یہ سمجھ لے گا کہ اتنی لمبی اور اتنی موٹی ایک چیز سامنے آگئی ہے۔پس انگلی کا علم باقی علم کی ضرورت کا پابند نہیں۔لیکن اللہ تعالیٰ کی ذات کا علم کلی علم کے طور پر ہے اور جب تک جزئیات کا علم نہ ہو اس وقت تک کلی علم حاصل نہیں ہو سکتا۔ہم خدا تعالیٰ تک اُس کے کی مخلوقات کے ذریعہ سے پہنچتے ہیں اور پھر اس میں بھی تکمیل کے بعد تکمیل اور وسعت کے بعد وسعت پیدا ہوتی چلی جاتی ہے۔ایک چیز کے علم کے بعد دوسری چیز کا علم حاصل ہوتا ہے، یہ