خطبات محمود (جلد 25) — Page 480
1944ء 480 خطبات محمود حق کو نظر انداز کر کے ان کو وہ حق دلا دوں۔ اِس سے صاف پتہ لگتا ہے کہ انصاف اور عدالت کی عظمت باقی نہیں رہی۔ ورنہ یہ بات تو انہیں ایک چوہڑے کے سامنے بیان کرتے ہوئے بھی شرم کرنی چاہیے تھی۔ مگر وہ چوہڑے کے پاس نہیں، کسی مومن کے پاس نہیں، کسی صالح کے پاس نہیں، کسی صدیق کے پاس نہیں بلکہ خلیفہ وقت کے پاس براہ راست جاکر یہ بات کہتے ہیں کہ یوں کر دو۔ جس کے معنے یہ ہیں کہ ایسے انسان کا دل أُولَئِكَ كَالْأَنْعَامِ بَلْ هُمْ أَضَلُّ 5 کے مطابق جانور کی طرح بلکہ اُس سے بھی بدتر ہوتا ہے۔ اور پھر ساتھ ساتھ قرآن بھی پڑھتے جائیں گے کہ شفاعت کا حکم تو خدا نے دیا ہے حالانکہ اس موقع پر خدا اور اُس کے فرشتے لعنت بھیج رہے ہوتے ہیں۔ غرض دین کو دنیا پر مقدم کرنے کی شکل بدلتی رہتی ہے۔ عدل اور انصاف آجکل بہت مشکل ہو گیا ہے۔ ہمارے ملک میں بغیر کمی بیشی کے کسی چیز کی خرید و فروخت نہیں ہوتی۔ دو پیسے کا سودا لینا ہو آدھ گھنٹہ بحث کریں گے تب جا کر اسے خریدیں گے۔ یہاں ڈلہوزی کا واقعہ ہے کہ ہمارے ایک ساتھی ایک دکان سے تصویروں کا ایک سیٹ خریدنے کے لیے گئے اور گھنٹہ بھر اُس دکاندار سے بحث کرتے رہے اور جھگڑا چھ آنے سے بارہ آنے تک اوپر نیچے ہوتا رہا اور اس پر ایک گھنٹہ صرف کر دیا۔ آخر دکاندار نے اُن سے کہا کہ آپ نے خوامخواہ میرا بھی وقت ضائع کیا اور اپنا بھی اور اپنے ان ساتھیوں کا بھی۔ تو ہمارے ملک میں یہ عام مرض ہے کہ کسی طرح دوسرے کو ٹوٹ لیں۔ پس حلف الفضول یہ ہے کہ یہ معاہدہ کیا جائے کہ ہر شخص کا جو حق ہو وہ اُس کو دلانے کی کوشش کی جائے۔ اور یہ عادت چھوڑ دیں کہ کسی کا حق ماریں بلکہ جس شخص کا حق مارا جا رہا ہو اُس کا حق دلانے کی کوشش کریں۔ خود میرے بھائیوں، بیویوں اور اولاد کے بارے میں بھی مجھ پر یہی اثر ہے کہ وہ سب اس نیکی میں سو فیصدی پورے نہیں اترے۔ بلکہ میں نے دیکھا ہے کہ ان میں سے بھی بعض سودا کرتے وقت یا لین دین کے وقت چاہیں گے کہ رعایت سے اُن کو حق سے کچھ زیادہ ہی مل جائے۔ پس میں سمجھتا ہوں کہ شاید اسی وجہ سے خدا تعالیٰ نے اس طرف توجہ دلائی ہے۔ جس سے اگر میری جسمانی اولاد مراد ہے تو وہ اور