خطبات محمود (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 477 of 778

خطبات محمود (جلد 25) — Page 477

1944ء 477 خطبات محمود کرنے کی کوشش کریں تو خدا تعالیٰ ان کو ضائع نہیں کرے گا بلکہ ان پر اپنے فضل نازل فرمائے گا۔ اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے کہ اس سے مراد جسمانی اولاد ہے یا جماعت مراد ہے کیونکہ جماعت بھی روحانی اولاد ہی ہوتی ہے۔ بہر حال یہ ایک ایسا مضمون ہے جو شاید سالہا سال سے بھی میرے ذہن میں نہیں آیا ہو گا۔ آٹھ دس سال سے تو حلف الفضول کا لفظ بھی میرے ذہن میں نہیں آیا۔ مگر اللہ تعالیٰ نے اس طرف توجہ دلائی ہے جو اس امر کا ثبوت ہے کہ یہ الہام ربانی ہے۔ اِس میں نفس کا دخل نہیں۔ در حقیقت یہ اس زمانہ کی اہم درجہ کی نیکی ہے اور ہم دیکھتے ہیں کہ اس زمانہ میں بالخصوص امیر لوگ غریبوں کو لُوٹتے ہیں اور اِس ٹوٹنے میں راحت محسوس کرتے ہیں۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرمایا کرتے تھے کہ کسی شخص نے جس کا نام نانک تھا یا شاید اس نے شرار تا با بانانک” کا نام لے کر یہ شعر بنالیا۔ حضرت بابا نانک تو نیک آدمی تھے۔ ان کی زبان سے تو اس قسم کی بات نہیں نکل سکتی۔ وہ کہتا ہے مال پرایا نانکا جیوں بوری مہیں دا دودھ کھائے پیئے ورتیے تے کارن ہوون شدھ یعنی اے نانک ! پر ایا مال ایسا سمجھنا چاہیے جس طرح بھوری بھینس کا دودھ ہوتا ہے۔ بھوری بھینس کے دودھ کو اچھا سمجھا جاتا ہے۔ عام طور پر سیاہی مائل بھینس کثرت سے ہوتی ہے۔ خالص بھوری بھینس کم ہوتی ہے۔ جیسے کالی گائے کم ہوتی ہے اس کے دودھ کو بھی عمدہ سمجھا جاتا ہے۔ تو کالی گائے اور بھوری بھینس دونوں کم ملتی ہیں۔ بالعموم بھینسیں پوری سیاہ یا سیاہی مائل ہوتی ہیں۔ تو وہ کہتا ہے کہ جس طرح بھوری بھینس کا دودھ طاقتور اور لذیز ہوتا ہے ایساہی دوسروں کا مال بھی لذیز ہوتا ہے۔ اس لیے پرائی چیز اگر لینے والی ہو تو لے لو۔ اگر برتنے والی ہو تو اُسے بر تو ۔ اگر کھانے والی ہو تو اُسے کھاؤ۔ اگر ایسا کرو گے تو " کارن ہوون شدھ"۔ اگر غیر کے مال کو اٹھانا جائز سمجھو گے تب تمہارے کام درست ہوں گے۔ اور اگر نیکی اور تقوی اختیار کروگے کہ غیر کے مال کو لینا حرام اور ناجائز ہے تو مصیبت میں پڑے رہو گے اور اس طرح