خطبات محمود (جلد 25) — Page 475
1944ء 475 خطبات محمود آج بھی میں اس قسم کی دعوت کو قبول کرنے کے لیے تیار ہوں۔ چنانچہ اور کافروں کا تو پتہ نہیں کہ انہوں نے اس معاہدہ پر عمل کیا یا نہیں لیکن آپ نے اس پر عمل کیا۔ نبوت کے دعوی کے بعد جبکہ مخالفت شدید ہو گئی اور مخالف ہر رنگ میں آپ کو اور آپ کے صحابہ کو نقصان پہنچانا جائز سمجھتے تھے۔ جس طرح کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام کے زمانہ میں بھی ہوا کہ مخالفین، احمدیوں کا مال کھالینا اور ان کو نقصان پہنچانا جائز سمجھتے ہیں۔ اسی طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں مکہ میں صحابہ کو یہ سب تکالیف ہوتی تھیں۔ کفار کے بڑے بڑے سردار جن میں ابو جہل، عتبہ اور شیبہ وغیرہ شامل تھے اکٹھے ہوئے اور انہوں نے مسلمانوں سے بائیکاٹ کرنے کا معاہدہ کیا کہ کوئی شخص ان کے ساتھ کلام نہ کرے، ان کے سلام کا جواب نہ دے، ان کے حقوق کو دبالینا سراسر جائز ہے اور ان کی کوئی بات خواہ وہ بالکل سچی ہو بالکل نہ مانو۔ اُس زمانہ کا واقعہ ہے کہ ایک دفعہ باہر سے ایک شخص نو۔اُس آیا۔ ابو جہل نے اُس سے کچھ مال خریدا تھا اور اس کی قیمت ادا نہیں کرتا تھا اور نہ ہی مال واپس ادا کرتا تھا۔ وہ شخص آیا اور جن جن لوگوں نے حلف الفضول میں حصہ لیا تھا باری باری اُن کے پاس گیا اور کہا کہ آپ لوگوں نے عہد کیا ہوا ہے کہ مظلوم کی مدد کریں گے آپ میری مدد کریں اور ابو جہل سے میرے مال کی قیمت یا میر امال واپس دلوا دیں۔ لیکن ان میں سے ہر ایک شخص ابو جہل جیسے بد گو انسان کے پاس جانے سے ڈرتا تھا اور پھر وہ رئیس بھی تھا اِس لیے ہر ایک نے انکار کر دیا کہ وہ نہیں جاسکتا۔ آخر پھرتے پھراتے وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا کہ اس اس طرح ابو جہل نے مجھ سے مال لیا تھا اب نہ وہ قیمت دیتا ہے اور نہ مال ہی واپس کرتا ہے۔ آپ میری مدد کریں اور میرا مال واپس دلوا دیں یا قیمت لے دیں۔ آپ نے فرمایا ہاں چلو۔ اور باوجود اس قدر شدید مخالفت کے کہ وہ آپ کی بات سننا بھی ناپسند کرتا تھا آپ اُس کے ساتھ چل پڑے اور ابو جہل کے گھر پر جاکر دستک دی۔ اُس نے اندر سے پوچھا کون ہے ؟ آپ نے فرمایا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)۔ اُس نے دروازہ کھول دیا اور پوچھا کہ دیا کس طرح آئے ہیں ؟ آپ نے فرمایا یہ شخص کہتا ہے کہ آپ نے اس سے کچھ سامان لیا تھا اور اس کے روپے نہیں دیے۔ میں اس لیے آیا ہوں کہ اس کے روپے ادا کر دیجیے۔ اُس نے بغیر