خطبات محمود (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 471 of 778

خطبات محمود (جلد 25) — Page 471

1944ء 471 ---------------------------- خطبات محمود سکیں گے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت آیا اس بات میں ہے کہ آپ نے ساری دنیا کا مقابلہ کیا اور پھر تمام لوگوں کو شکست دے کر اور اُن کو اپنے پیچھے چھوڑ کر خدا تعالیٰ کے خاص قرب کا مقام حاصل کر لیا یارسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت اس بات میں ہے کہ خدا نے ان کو زبردستی لوگوں کے آگے کر دیا اور خود روک بن کر لوگوں میں اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم میں حائل ہو گیا اور اُس نے آگے بڑھنے سے اوروں کو جبراً روک دیا تا وہ کہیں اس مقام تک نہ پہنچ جائیں جس مقام پر وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو پہنچانا چاہتا تھا۔ میں یقیناً سمجھتا ہوں جب ہماری مخالفت کم ہو گی، جب مسلمانوں میں بیداری پیدا ہو گی تو وہ تسلیم کر لیں گے کہ یہی عقیدہ درست ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مقابلہ میں سب لوگ دوڑے اور ہر ایک نے چاہا کہ وہ اللہ تعالیٰ کا زیادہ سے زیادہ قرب حاصل کرے۔ مگر اس میدان میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دنیا کے تمام انسانوں کو شکست دے دی اور خود وہ مقام حاصل کر لیا جو تمام مقامات سے ارفع و اعلیٰ ہے اور جہاں نہ کوئی پہلے پہنچا اور نہ قیامت تک کوئی شخص پہنچ سکتا ہے۔ یہی وہ عقیدہ ہے جس میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت ہے اور یہی وہ عقیدہ ہے جس سے نہ خدا پر کوئی اعتراض عائد ہوتا ہے ، نہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے کمالات میں کوئی نقص ثابت ہوتا ہے۔ غرض بلا وجہ ہم پر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہتک کا الزام عائد کیا جاتا ہے اور ہمیں آپ کے مقام کو گرانے والا قرار دیا جاتا ہے۔ حالانکہ ہم ہی ہیں جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت کرنے والے اور آپ کے نام کو بلند کرنے والے ہیں۔ ان باتوں سے جہاں ہمیں تعجب پیدا ہوتا ہے کہ ہماری دشمنی لوگوں کے دلوں میں کس قدر بڑھ چکی ہے کہ وہ اس دشمنی کی وجہ سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت کو کم کرنے اور آپ کے درجہ کو گرانے سے بھی دریغ نہیں کرتے ، وہاں ہم اِس مخالفت سے ذرا بھی نہیں گھبراتے اور ہمارے لیے گھبراہٹ کی کوئی وجہ بھی نہیں۔ کیونکہ ہمارا تجربہ بتا رہا ہے کہ جو بات ہماری طرف سے پیش کی جاتی ہے وہی چالیس پچاس سال کے بعد مسلمان کہنے لگ جاتے ہیں۔ میں نے غیر مذاہب کے متعلق جلسے منعقد کرنے کی تحریک کی تو پہلے اس کی بڑی مخالفت ہوئی مگر اب