خطبات محمود (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 470 of 778

خطبات محمود (جلد 25) — Page 470

خطبات محمود 470 $1944 ہمارے ان عقائد کو تسلیم کرے اور انہی کو صحیح اور درست سمجھے۔کیا ہمیں یہ نظارے نظر نہیں آتے کہ چالیس سال پہلے جن مسائل کی وجہ سے ہم پر کفر کے فتوے لگائے جاتے تھے، آج انہی مسائل کو مسلمان اپنے اعتقادات قرار و ہیں؟ کہا جاتا تھا کہ قرآن کریم کی کئی آیتیں منسوخ ہیں مگر آج ہر تعلیم یافتہ مسلمان قرآن کریم میں نسخ کے عقیدہ کو باطل عقیدہ قرار دیتا ہے اور یقین رکھتا ہے کہ قرآن کریم کی کوئی آیت منسوخ نہیں۔بلکہ سارے کا سارا قرآن بنی نوع انسان کے لیے واجب العمل ہے۔اسی طرح آج سے چالیس سال پہلے محض اس بناء پر کہ ہم وفات مسیح کے قائل ہیں، ہم پر کفر کے فتوے لگائے گئے۔مگر آج ہر تعلیم یافتہ انسان سمجھتا ہے کہ عیسٰی مر گیا۔حالانکہ یہ وہ مسئلہ تھا جس کو ماننے پر ہمیں گالیاں دی جاتی تھیں، ہمیں پتھر اؤ کیا جاتا تھا، ہمیں کافر اور دجال کہا جاتا تھا۔مگر ہم اُس وقت بھی یہی کہا کرتے تھے کہ عیسی اگر مرتا ہے تو بے شک مرے، ہمیں تو اسلام کی زندگی کی ضرورت ہے۔اگر اسلام کی زندگی میسی کی وفات میں ہے تو عیسی خواہ سو دفعہ مرے ہمیں اس کی کوئی پروا نہیں کیونکہ ہم صرف اسلام کے احیاء کو دیکھنا چاہتے ہیں۔غرض جیسیوں عقائد اور بیسیوں مسائل ہیں جن میں احمدیت کو فتح حاصل ہوئی۔اسی طرح یہ ہم پر کفر کا فتوی لگانے کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ ہمارے متعلق کہا جاتا تھا یہ لوگ ہند وپس میں ہے سے بت پوجنے والے کو نبی کہتے ہیں یعنی ان لوگوں کو جن کو ہندو اوتار کہتے ہیں، اللہ تعالی کا نبی ہے مانتے ہیں۔مگر آج دیکھ لو مسلمانوں کا اکثر تعلیم یافتہ طبقہ اس مسئلہ کو اپنی تقریروں اور تحریروں میں بیان کر رہا ہے کہ یہ لوگ خدا تعالی کے نبی تھے۔چنانچہ لاہور ، دہلی اور حیدر آباد میں سے مسلمانوں کی یہ آوازیں اُٹھنی شروع ہو گئی ہیں کہ حضرت کرشن بھی خدا تعالیٰ کے نبی تھے اور حضرت را مچندر بھی خدا تعالیٰ کے نبی تھے۔حالانکہ انہی باتوں کی وجہ سے پہلے ہم پر کفر کے فتوے لگائے جاتے تھے۔تو ہمارا تجربہ بتا رہا ہے کہ جو بات ہماری طرف سے پیش کی جاتی ہے ، چالیس پچاس سال کے بعد وہی بات مسلمان کہنے لگ جاتے ہیں۔میں نہیں سمجھ سکتا کہ جب مسلمانوں میں بیداری پیدا ہو گی، جب اُن میں سچا اخلاص پیدا ہو گا، جب اُن کے دلوں میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سچی محبت پیدا ہوگی تو وہ اس بات کو نہیں سمجھ ہے