خطبات محمود (جلد 25) — Page 47
1944ء 47 خطبات محمود ٹوٹ جائے تو اس کے بعد بے شک امتِ محمدیہ میں بڑے بڑے لوگ پیدا ہو جائیں بلکہ میں کہتا ہوں اگر بعض وقتوں میں ابو بکر سے بھی بڑے لوگ پیدا ہو جائیں تو بھی اسلام کو وہ شوکت نصیب نہیں ہو سکتی جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ میں اسے نصیب تھی۔ اس لیے کہ گورسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ میں بھی ایک ہی ابو بکر تھا، ایک ہی عمر تھا، ایک ہی عثمان تھا، ایک ہی علی تھا۔ لیکن اکثر مسلمان ایسے تھے جن کے دلوں میں ایمان تازہ تھا اور جو اللہ تعالیٰ کا عشق اپنے دلوں میں رکھتے تھے۔ پس گو وہ ابو بکر نہ تھے ، گو وہ عمر نہ تھے ، مگر وہ سارے مسلمان چھوٹے چھوٹے درجہ کے ابو بکر اور چھوٹے چھوٹے درجہ کے عمر تھے۔ بلکہ ان میں سے ہر ایک اپنے اپنے مقام اور اپنے اپنے درجہ کے لحاظ سے ایک چھوٹا محمد تھا (صلی اللہ علیہ وسلم)۔ اس لیے وہ تغیر جو یہ لوگ پیدا کر سکتے تھے بعد میں پیدا نہ ہوا اور نہ ہو سکتا تھا۔ کیونکہ وہ اکیلے تھے جماعتیں ان کے ساتھ نہ تھیں۔ لیکن رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اِلَّا مَا شَاءَ اللهُ ساروں میں ایسا تغیر پیدا کر دیا جو دنیا میں ایک عظیم الشان انقلاب پیدا کرنے کا موجب بن گیا۔ پس اپنے زمانہ کی اہمیت سمجھنے اور اس سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھانے کی کوشش کرنی چاہیے۔ اب بھی جو اخلاص کی روح ہماری جماعت میں موجود ہے اگر یہ اسی طرح بڑھتی چلی جائے اور نہ صرف ہم میں یہ روح رہے بلکہ ہماری نسلوں میں بھی منتقل ہوتی رہے تو اللہ تعالیٰ کے فضل سے ایک دن یہ روح لاکھوں سے کروڑوں اور کروڑوں سے اربوں لوگوں میں پھیل جائے گی۔ لیکن اگر اس زنجیر کو ٹوٹنے دیا جائے، اگر یہ تعلق قائم نہ رہے تو چاہے بعد میں بعض ایسے لوگ بھی پیدا ہو جائیں جو اپنے درجہ اور مقام کے لحاظ سے خلفاء سے بھی بڑھ کر ہوں پھر بھی وہ دنیا کو وہ ترقی نہیں دے سکیں گے جو آج جماعت احمدیہ کے افراد کے ذریعہ حاصل ہو سکتی ہے۔ کیونکہ وہ اکیلے ہوں گے اور آج ایک جماعت موجود ہے۔ اور اس کی وجہ جیسا کہ میں بتا چکا ہوں یہی ہے کہ نبی دنیا کے قلوب میں تغیر پیدا کرنے کے لیے آتے ہیں چند بڑے بڑے آدمی پیدا کرنے کے لیے نہیں آتے۔ پس یہ موقع جو آج لوگوں کو نصیب ہے اس سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھانا ہماری کی