خطبات محمود (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 468 of 778

خطبات محمود (جلد 25) — Page 468

1944ء 468 خطبات محمود بہت زیادہ عزت اور بہت زیادہ انعام کا مستحق سمجھا جائے گا۔ بھلا اس میں کسی کی کیا عزت ہے کہ بہت سے پہلو ان جمع ہوں تو ایک شخص کو بلا وجہ آگے کر دیا جائے اور دوسروں کو پیچھے ہٹا دیا جائے ۔ یہ بات اُسے معزز ثابت کرنے والی نہیں ہوگی۔ بلکہ اُسے دوسروں کے مقابلہ میں نااہل قرار دینے والی ہو گی۔ ہمیں تو جس چیز میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت نظر آتی ہے ہم اسی کو پیش ا کی کرتے ہیں۔ مگر ان مسلمانوں کے دلوں سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت اتنی نکل چکی ہے، ان کا تعلق آپ سے اتنا کٹ چکا ہے اور ہمارا بغض ان کے دلوں میں اس قدر بڑھ چکا ہے کہ ہم اگر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو بڑا کہیں تو وہ چھوٹا کہہ دیتے ہیں، ہم محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو خدا رسیدہ قرار دیں تو وہ آپ کو نَعُوذُ بِاللہ خدا سے دور قرار دینے کے لیے تیار ہو جاتے ہیں۔ میں نہیں سمجھ سکتا یہ کیسا ایمان ہے اور کس طرح یہ سمجھا جا سکتا ہے کہ ان کے دلوں میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا عشق پایا جاتا ہے۔ پھر عجیب بات یہ ہے کہ اس بنیاد پر اور اپنی اس حالت کے ہوتے ہوئے ہم سے یہ بحث کی جاتی ہے کہ انہیں کافر کیوں کہا جاتا ہے۔ جن لوگوں کے دلوں میں ہماری دشمنی اتنی بڑھ چکی ہے کہ وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی دشمنوں کی نگاہ میں ذلیل کرنے کے لیے تیار ہیں محض اس وجہ سے کہ اُن کی باتوں سے لوگوں میں ہمارے خلاف اشتعال پیدا ہو جائے اُن کے ایمان کا خیال بھی کسی کو کس طرح آسکتا ہے۔ ہمارے خلاف اگر وہ لوگوں کو بھڑ کا نا چاہتے ہیں تو بیشک بھڑکائیں ہمیں ان کی مخالفت کی کوئی پروا نہیں۔ اگر وہ ہمارے خلاف لوگوں کو اشتعال دلانا چاہتے ہیں تو بیشک دلائیں۔ پہلے کب لوگوں نے ہمارے خلاف اشتعال کا اظہار نہیں کیا اور پہلے کب انہوں نے ہماری مخالفت میں اپنی انتہائی کوشش صرف نہیں کی۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام فرماتے ہیں اور ہمارا بھی یہی مذہب ہے کہ در کوئے تو اگر سر عشاق را ز نند اول کسے کہ لافِ تعشق زَندَ مَنم 5 اگر تیرے کوچہ میں یہ حکم ہو کہ جو شخص تیری محبت کا دعوی کرے گا اُس کا سر