خطبات محمود (جلد 25) — Page 465
1944ء 465 خطبات محمود یہ تو صریح ہتک ہے جو مسلمانوں کی طرف سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی، کی جاتی ہے۔ اور یہ ایسی ہی بات ہے جیسے کسی شخص سے پوچھا جائے کہ ہٹلر کی لوگ کیوں تعریف کرتے ہیں ؟ تو وہ کہے اس لیے کہ اُس کا قد پانچ فٹ کا ہے ، وہ فلاں کو ٹھی میں رہتا ہے اور اُس کی زبان ایسی ہے۔ اِس کے صاف معنی یہ ہوں گے کہ یا تو یہ تعریف کرنے والا پاگل ہے اور یا اُسے اندرونی طور پر دوسرے شخص سے کوئی شدید دشمنی ہے جس کا وہ اِس رنگ میں اظہار کر رہا ہے۔ اسی طرح مسلمان وہ باتیں تو بیان نہیں کرتے جن سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حقیقی شان ظاہر ہوتی ہے اور یہ کہنا شروع کر دیتے ہیں کہ آپؐ کے گیسو ایسے تھے اور آپؐ کا رنگ ایسا تھا۔ حالانکہ لمبے گیسوؤں والے دنیا میں ہزاروں مل سکتے ہیں، سفید رنگ والے دنیا میں ہزاروں مل سکتے ہیں، اچھے قد والے دنیا میں ہزاروں مل سکتے ہیں، خوبصورت آنکھوں والے دنیا میں ہزاروں مل سکتے ہیں۔ اور یہ خوبیاں ہر گز ایسی نہیں جن میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم دوسروں سے ممتاز ہوں۔ جس چیز میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم منفرد ہیں اور جس چیز میں دنیا کا کوئی شخص آپ کے مقابلہ میں پیش نہیں کیا جا سکتا وہ محبت اور وہ عشق ہے جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ کی ذات کے ساتھ تھا۔ تم ایسا کوئی شخص دنیا میں تلاش نہیں کر سکتے جس نے خدا سے وہ محبت کی ہو جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کی، جس نے اُس عشق کا اظہار کیا ہو جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ظاہر ہوا۔ تم لمبے گیسوؤں والے ہزاروں نہیں لاکھوں آدمی دنیا میں دکھا سکتے ہو لیکن آدم سے لے کر قیامت تک تم ایک شخص بھی ایسا پیش نہیں کر سکتے جس نے پاکیزگی اور طہارت کا وہ نمونہ دکھایا ہو جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دکھایا۔ پس رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو رسالت کے اس بلند ترین مقام پر پہنچانے والی آپؐ کی وہ صداقت تھی جس کا آپؐ نے نمونہ دکھایا اور جس کی مثال آدم سے لے کر قیامت تک دنیا کے کسی شخص میں نہیں مل سکتی۔ اس مقام پر پہنچانے والی آپؐ کی وہ امانت تھی جس کا آپ نے نمونہ دکھایا اور جس کی مثال آدم سے لے کر قیامت تک دنیا کے نہیں مل سکتی۔ اس مقام پر پہنچانے والا آپ کا وہ انصاف تھا جس کا آپ نے نمونہ دکھایا اور جس کی مثال آدم سے لے کر قیامت تک دنیا کے کسی شخص میں نہیں مل سکتی۔