خطبات محمود (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 463 of 778

خطبات محمود (جلد 25) — Page 463

1944ء 463 خطبات محمود محبت کی وجہ سے۔ اور اس طرح اُنہوں نے وہ مقام حاصل کر لیا جس کو دوسرے لوگ حاصل نہ کر سکے۔ پس ایک تو یہ توجیہہ ہے جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق کی جاسکتی ہے اور ایک توجیہہ یہ ہے کہ بہتیرے آدمی ایسے تھے جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بڑھ سکتے تھے۔ آپ کا آگے نکل جانا آپ کے کامل نبی ہونے کی نَعُوذُ بِاللہ کوئی دلیل نہیں کیونکہ خدا رستہ میں حائل ہو گیا تھا اور اُس نے درمیان میں کھڑے ہو کر باقی سب لوگوں کو وہاں تک پہنچنے سے محروم کر دیا۔ یا دوسرے لفظوں میں یہ کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ نے وہ قابلیتیں دیں جو دوسروں کو نہیں دیں اِس لیے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آگے نکل گئے اور دوسرے لوگ پیچھے رہ گئے۔ ہم وہ ہیں جو اس بات کے قائل ہیں کہ وہ لوگ جھوٹے ہیں جو خیال کرتے ہیں کہ اس دوڑ میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اور لوگ اس لیے نہیں بڑھے کہ خدا تعالیٰ نے اُن کو وہ طاقتیں نہیں دی تھیں جو خاص طور پر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دی گئی تھیں۔ کیونکہ خدا تعالیٰ نے عملی طور پر دکھا دیا کہ سب لوگ دوڑے مگر کوئی شخص رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم جیسا تیز دوڑ نہ سکا اور اس وجہ سے جو مقام رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حاصل کیا وہ کوئی دوسرا شخص حاصل نہ کر سکا۔ مگر یہ لوگ اس بات کے قائل ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اور لوگ بھی بڑھ سکتے تھے۔ مگر خدا نے اُن کو جبراً آگے بڑھنے سے روک دیا۔ وہ خود اُن کے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے مقام کے درمیان کے اور محمدصلی اللہ علیہ وسلم کے حائل ہو گیا اور اس طرح اُن کو ترقی کے حصول سے جبری طور پر محروم کر دیا۔ ہر وہ شخص جس کے اندر تخم دیانت پایا جاتا ہے ان دونوں امور پر غور کر کے بتائے آیا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق یہ پہلو زیادہ مناسب اور آپ کی عزت کو بڑھانے والا ہے کہ خدا نے زبر دستی آپ کو آسمان پر بٹھا دیا اور دوسروں کو زمین پر گرا دیا یا یہ پہلو آپ کی شان اور عظمت کو پر دیا یا بڑھانے والا ہے کہ خدا نے ہر ایک کے لیے ترقی کا راستہ کھلا رکھا تھا، ہر ایک کے لیے موقع تھا کہ وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی آگے بڑھ سکتا مگر کوئی شخص ایسانہ نکلا جو اپنی قربانی اور اپنی محبت اور اپنے ایثار اور اپنے خلوص اور اپنے تعلق باللہ میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے