خطبات محمود (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 461 of 778

خطبات محمود (جلد 25) — Page 461

خطبات محمود 461 $1944 اِس سے بڑھ کر اور کوئی گالی نہیں ہو سکتی۔یہ خدا کے لیے بھی گالی ہے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے بھی گالی ہے۔خدا کے لیے اس طرح گالی ہے کہ اس کے نتیجہ میں خدا تعالیٰ پر ناجائز طر فراری کا الزام عائد ہوتا ہے اور کہنا پڑتا ہے کہ جو لوگ آگے بڑھنے کے مستحق تھے اُن کو تو خدا نے بڑھنے نہ دیا اور جو شخص اس مقام کا مستحق نہیں تھا، اُسے آگے بڑھا دیا۔اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اس میں اس طرح بنک ہے کہ اس کے نتیجہ میں یہ تسلیم کرنا پڑتا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جو مقام بلند حاصل کیا وہ آپ نے اپنی قابلیت سے حاصل نہیں کیا۔اگر قابلیت کا سوال ہو تا تو اور کئی لوگ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بڑھ سکتے تھے۔پس تعجب ہے کہ وہ بات جس کا سننا کوئی ماں اپنے بیٹے کے متعلق برداشت نہیں ہے کر سکتی، کوئی بیٹا اپنے باپ کے متعلق برداشت نہیں کر سکتا، کوئی بھائی اپنے بھائی کے متعلق برداشت نہیں کر سکتا وہ محض ہماری مخالفت کی وجہ سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق کہی جاتی ہے اور ہمارے متعلق یہ کہا جاتا ہے کہ ہم نَعُوذُ بِالله رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہتک کا ارتکاب کرنے والے ہیں۔کیونکہ ہم کہتے ہیں کہ خدا تعالیٰ نے کسی کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بڑھنے سے نہیں روکا۔اگر کسی شخص میں ہمت ہے تو بڑھ جائے۔مگر وہ بڑھے گا نہیں کیونکہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو قربانی کی ہے کوئی وہ قربانی دینے کا اہل نہیں ہے۔یہ صاف بات ہے کہ بڑھ سکنا اور چیز ہے اور بڑھنا اور چیز۔بڑھ سکنے کے یہ معنی ہیں کہ ہر شخص کے لیے آگے بڑھنے کا موقع تھا اور یہ راستہ اُس کے لیے بند نہیں تھا بلکہ گھلا تھا۔لیکن جب کوئی شخص آپ سے بڑھا نہیں تو معلوم ہوا کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو عشق کا نمونہ دکھایا ویسا نمونہ اور کوئی نہیں دکھا سکا۔عام آدمی تو الگ رہے وہ نمونہ ابراہیم، موسی اور عیسی بھی نہیں دکھا سکے۔اب اس عقیدہ میں رسول کریم کی ہتک کو نسی ہو گئی۔یہ تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت ہے کہ خدا نے سب لوگوں کے لیے دروازہ کھول دیا اور کہا کہ آؤ! اور اس دروازے میں داخل ہونے کے لیے ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کرو۔اِس پر